خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 200
خطبات ناصر جلد دوم ۲۰۰ خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۶۸ء وراث بن جائیں اور بتایا کہ یہ راہ آج پہلی دفعہ انسان کو نہیں بتائی جارہی بلکہ حضرت آدم علیہ السلام سے نبوت کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور انبیاء سے تعلق رکھنے والے بزرگ ، خدا کی راہ میں قربانی دینے والے، خدا کی محبت کو پانے والے پیدا ہوتے رہے پس جس طرح پہلوں پر اصولی طور پر تیرے انعام نازل ہوئے تو ہمیں ایسی راہ دکھا کہ ہم بھی ان جیسے بن جائیں اور اس قسم کے انعام ہمیں بھی تیری طرف سے ملیں۔اس حصہ پر میں نے خاصی تفصیل سے روشنی ڈالی تھی لیکن میرا خیال ہے کہ وہ خطبہ محفوظ نہیں رہا، مری میں میں نے بعض خطبات دیئے تھے جو محفوظ نہیں رہ سکے یعنی نہ تو وہ ٹیپ ہوئے نہ رکھے گئے۔بہر حال اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ منعم عليهم گروہ کے علاوہ ایک گروہ وہ بھی ہے جو منعم علیہم نہیں اور آگے وہ دوحصوں میں منقسم ہوتا ہے ایک وہ جو مغضوب بن جاتے ہیں اور ایک وہ جو راہ سے بھٹک جاتے ہیں۔مغضوب کے معنی قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ ہیں کہ جو شخص انشراح صدر کے ساتھ کفر کو کفر سمجھتے ہوئے قبول کرتا ہے سب سے پہلا انشراح صدر اس سلسلہ میں ابلیس کو ہوا تھا اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں تھی وہ اپنے اللہ کو پہچانتا تھا، اللہ سے وہ گفتگو کر رہا تھا لیکن کہتا تھا کہ میں کفر کروں گا اور لوگوں کو بھٹکاؤں گا تیرا کہنا نہیں مانوں گا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی سزا ملے گی خدا نے کہا تھا کہ میں تجھ سے اور تیرے ماننے والوں سے جہنم کو بھر دوں گا لیکن وہ کفر پر قائم رہا غرض مغضوب اس کو کہتے ہیں جو نافرمانی کی راہ کو نافرمانی کی راہ سمجھتا ہے۔جو کفر کے راستہ کو کفر کا راستہ سمجھتا ہے جو جانتا ہے کہ اگر میں نے یہ راہ اختیار کی تو اللہ تعالیٰ کا یقینی غضب مجھ پر نازل ہو گا لیکن کبھی اس کا شیطانی نفس یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے اسی راہ کو اختیار کرنا ہے اللہ تعالیٰ مغضوب کے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے سورہ نحل میں فرماتا ہے۔مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِةِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَينَ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللهِ۔(النحل : ۱۰۷) اس آیت میں بڑی وضاحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ غضب اس گروہ یا فرد پر