خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 199 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 199

خطبات ناصر جلد دوم ۱۹۹ 69 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۶۸ء سورۃ فاتحہ بڑی حسین ، بڑی وسعتوں ، گہرائیوں اور تأثیروں والی دعا ہے خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ،تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔گزشتہ چند خطبات میں میں نے سورہ فاتحہ کی مختلف آیات لے کر ان کے مضمون کو جماعت کے سامنے رکھا تھا اور اس سلسلہ میں جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوسکتی ہیں ان کی طرف انہیں متوجہ کیا تھا آج مجھے خیال آیا کہ ان خطبات میں قریباً ساری سورۃ فاتحہ کی ایک تفسیر بیان ہوگئی ہے سوائے ایک ٹکڑے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کے اس لئے آج میں جماعت کو اس مضمون کی طرف متوجہ کروں گا جو اس چھوٹی سی آیت میں بیان ہوا ہے۔اگر چہ میری بیماری کافی حد تک دور ہو چکی ہے لیکن کچھ ضعف باقی ہے اس لئے اختصار ہی کرنا پڑے گا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ایک عجیب دعا، بڑی حسین اور بڑی وسعتوں اور بڑی گہرائیوں اور بڑی تاثیروں والی دعا سکھائی اور ہمیں بتایا کہ یہ دعا کرو کہ اے خدا عقل بھی ہمیں یہی بتاتی ہے ہماری فطرت بھی اسی طرف راہ نمائی کرتی ہے کہ ہر مقصود کے پانے کے لئے ایک سیدھی راہ ہوا کرتی ہے اور جو اس سیدھی راہ کو اختیار کرتا ہے وہی اپنے مقصود کو حاصل کرتا ہے اس لئے ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو ہمیں تجھ تک پہنچا دے تو ہمیں مل جائے تیرے ساتھ ہمارا تعلق قائم ہو جائے تجھے ہم پالیس، تیری رحمتوں کے ہم