خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 180 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 180

خطبات ناصر جلد دوم ۱۸۰ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء میں کہ جب مسلمانوں کے نزدیک بھی تو رات خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے روحانی اور جسمانی صداقتیں بیان کی ہیں اور اس کے متعلق خود قرآن کریم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہدایت اور نور کا باعث تھی بنی اسرائیل کے لئے۔تو ایسی کتاب کے ہوتے ہوئے قران کریم کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس کا جوب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسائیوں کو کہا کہ تم تو رات سے مقابلہ کرتے ہوئے سارے قرآن کریم کا ذکر نہ کیا کرو کیونکہ قرآن کریم کی جو پہلی اور ابتدائی مختصر سی سورۃ ہے اس میں جو روحانی مضامین بیان ہوئے ہیں تمہاری ساری الہامی کتب میں وہ مضامین نہیں پائے جاتے اگر اس میں شک ہو تو مقابلہ کر کے دیکھ لو کوئی عیسائی مناد، کوئی عیسائی چرب زبان، کوئی عیسائی لیڈر جو مختلف فرقوں کے ٹاپ (Top) کے آدمی اور ان کے راہنما اور قائد سمجھے جاتے ہیں وہ اس طرف نہیں آئے۔میں نے پھر اس دعوت کو، میں چیلنج کہنا اسے پسند نہیں کرتا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے چیلنج نہیں کہا، بلکہ دعوت فیصلہ۔اسلام اور عیسائیت کے درمیان اگر یہ فیصلہ کرنا ہو کہ کون سی کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی اور محفوظ ہے یہ دعوی ہے۔کیونکہ تو رات کے متعلق ہم بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی لیکن نہ اس کی حفاظت کا وعدہ دیا گیا تھا نہ اس کی حفاظت کی گئی تھی بعد میں انسان کا دخل بیچ میں ہوا اور نہ اس وقت یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ قیامت تک بنی نوع انسان کو ہدایت دیتی چلی جائے گی کیونکہ انسان اپنے روحانی اور اخلاقی ارتقا میں ابھی اپنی رفعتوں کو نہیں پہنچا تھا۔تو نہ ایسا دعوی تھا اور نہ وہ لوگ اس کے مستحق تھے۔ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب لیکن انسان کا بیچ میں دخل ہوا۔زمانہ بدلا۔زمانہ کے مسائل بدلے۔زمانہ کے حالات بدلے۔انسان کا دماغ بدل گیا۔ارتقا کے جس مقام پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں انسان تھا اس سے کہیں بلند مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں وہ پہنچ گیا اس کے لئے تو رات تھی نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو یعنی عیسائیوں کو یہ کہا کہ بہتر کے قریب تمہاری آسمانی کتابیں، بہتر کے قریب ہم اس لئے کہتے ہیں کسی نوجوان کے دماغ میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ صحیح تعداد دیں۔قریب کا کیا مطلب؟ تو قریب کا