خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 147
خطبات ناصر جلد دوم ۱۴۷ خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۶۸ء جہاں تک غنا اور احتیاج کا سوال ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو چاہو گے تمہیں مل جائے گا اس سے زیادہ اور کیا غنا ہو سکتی ہے عزت کی ایک نگاہ بھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے کسی بندہ پر پڑے وہ بھی بڑی ہے لیکن جس زندگی کے متعلق یہ وعدہ ہو کہ اس کے ہرلمحہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی نگاہیں ایک عاجز انسان پر پڑتی رہیں گی اس سے بڑھ کر اور کیا عزت ہو گی پھر علم اور علم کی زیادتی کا یہ حال کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے متعلق هُدًى لِلْمُتَّقِينَ فرماتا ہے یعنی مومن ہدایت کے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے کچھ مقامات حاصل کرتا ہے تو کچھ اور نئی راہیں اس پر کھول دی جاتی ہیں پھر وہ ایک نئے بلند تر مقام پر پہنچتا ہے تو قرب کی کچھ اور راہیں اس پر کھولی جاتی ہیں یہ ہدایت اور علم ایسا نہیں جس پر انسان ایک وقت میں احاطہ کر لے اور سیر ہو جائے اور پھر تشنگی کا احساس اس کے اندر پیدا نہ ہو بلکہ یہ وہ علم اور ہدایت ہے جو ہر لمحہ بڑھتا ہے وہ علم ہے جو ہرلمحہ انسان کو خدا تعالیٰ سے قریب سے قریب ترلے جاتا ہے وہ علم ہے جس پر شیطان کی یلغار کا امکان ہی نہیں کیونکہ جنت کے دروازے شیطان پر بند ہو چکے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قسم کی ابدی حیات طیبہ کے حصول کے لئے تم ایمان لاتے ہو اور میری آواز پر لبیک کہتے ہو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس اعلان ایمان کے نتیجہ میں تین قسم کی ذمہ داریاں تم پر عائد ہوتی ہیں اور تین تقاضے ہیں جو یہ ایمان انسان سے کرتا ہے۔پہلا تقاضا اس کا یہ ہے کہ اتقو الله انسان ایمان سے قبل بہت سی بدیوں اور بد عادتوں اور بدر سوم اور شیطانی خیالات میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔ایمان کے ساتھ ہی اس کو یہ ساری بُرائیاں چھوڑنی پڑتی ہیں اور چھوڑنی چاہئیں اگر وہ ایمان میں سچا ہے تقویٰ کے معنی ہیں اپنے نفس کو گناہ اور معاصی اور نواہی کے ارتکاب سے انسان اس لئے بچائے کہ کہیں اس کا رب اس سے ناراض نہ ہو جائے پس جب ایمان حقیقی ہو اور اس کے ساتھ جیسا کہ چاہیے معرفت اور عرفان بھی ہو تو ایمان کا پہلا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ساری بُرائیوں اور بدیوں اور بد رسوموں اور بد عادتوں اور بدخیالات اور بدخواہشوں اور گند سے میلان طبع کو انسان اپنے رب کی خاطر چھوڑ دے غرض تمام گناہوں اور معاصی سے بچنے کا نام تقویٰ ہے اور عقلاً بھی انسان سے پہلا مطالبہ یہی ہونا چاہیے کیونکہ جب تم