خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 122 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 122

خطبات ناصر جلد دوم ۱۲۲ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۶۸ء کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے غصہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔ہے۔۱۲ اسی طرح آپ فرماتے ہیں :۔”ہماری جماعت کو چاہیے کہ اپنے مخالفوں کے مقابل پر نرمی سے کام لیا کریں تمہاری آواز تمہارے مقابل کی آواز سے بلند نہ ہو۔اپنی آواز اور لہجہ کو ایسا بناؤ کہ کسی دل کو تمہاری آواز سے صدمہ نہ ہو دے۔ہم قتل اور جہاد کے واسطے نہیں آئے بلکہ ہم تو مقتولوں اور مُردہ دلوں کو زندہ کرنے اور ان میں زندگی کی روح پھونکنے کو آئے ہیں۔تلوار سے ہمارا کاروبار نہیں نہ یہ ہماری ترقی کا ذریعہ ہے ہمارا مقصد نرمی سے ہے اور نرمی سے اپنے مقاصد کی تبلیغ ہے۔غلام کو وہی کرنا چاہیے جو اس کا آقا اس کو حکم کرے۔جب خدا نے ہمیں نرمی کی تعلیم دی ہے تو ہم کیوں سختی کریں۔ثواب تو فرمانبرداری میں ہوتا ہے اور دین تو سچی اطاعت کا نام ہے نہ یہ کہ اپنے نفس اور ہوا و ہوس کی تابعداری سے جوش دکھاویں۔یا درکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آجاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہر گز نہیں نکل سکتیں۔وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم گند ہوتا ہے۔اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں :۔وو سودیکھو! اگر تم لوگ ہمارے اصل مقصد کونہ سمجھو گے اور شرائط پر کار بند نہ ہو گے تو ان وعدوں کے وارث تم کیسے بن سکتے ہو جو خدا نے ہمیں دیئے ہیں۔جسے نصیحت کرنی ہو اُسے زبان سے کرو۔ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرا یہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو