خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 108 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 108

خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۸ خطبہ جمعہ ۱۲ را پریل ۱۹۶۸ء ایک مومن کا فرض قرار دیا ہے کہ وہ صرف سچ ہی بولنے والا نہ ہو ، صرف قولِ سدید کا ہی پابند نہ ہو بلکہ احسن قول کی پابندی کرنے والا ہو اور حکمت یہ بیان کی کہ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو شیطان تمہارے درمیان فساد ڈال دے گا۔يَنْزَعُ بَيْنَهُم انسان کی زبان کا اعمال صالحہ میں سے ہر عمل کے ساتھ تعلق پیدا ہو سکتا ہے اور ہر عمل کو انسان کی زبان ضائع بھی کر سکتی ہے اس لئے انسان کی زبان کو ، اس کے قول کو ، اس کے اظہار کو اسلام نے بڑی ہی اہمیت دی ہے اور اسے اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اگر تم اپنی زبان سنبھال کر نہیں رکھو گے تو اللہ تعالیٰ کے غضب کے مورد بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی بجائے شیطان کے مقرب ٹھہرو گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی اصولی تعلیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے۔بدبخت تر تمام جہاں سے وہی ہوا جو ایک بات کہہ کے ہی دوزخ میں جا گرا پس تم بچاؤ اپنی زباں کو فساد سے ڈرتے رہو عقوبت ربّ العباد سے دو عضو اپنے جو کوئی ڈر کر بچائے گا سیدھا خدا کے فضل سے جنت میں جائے گا وہ اک زباں ہے عضو نہانی ہے دوسرا یہ ہے حدیث سیدنا سید الوری غرض جہاں تک عام بول چال کا تعلق ہے، اظہار کا تعلق ہے، جب دو انسانوں کے درمیان واسطہ پیدا ہوتا ہے ، ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں، ایک دوسرے کے افسر یا ماتحت ہوتے ہیں ، ایک دوسرے کی نگرانی میں ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے راعی اور رعیت بنتے ہیں، سب کے لئے خواہ وہ دنیوی لحاظ سے اور انتظامی لحاظ سے بالا مقام رکھتے ہوں، خواہ وہ دنیوی لحاظ سے بالا مقام نہ رکھتے ہوں ، ماتحتی کا مقام رکھتے ہوں، خواہ وہ سکھانے والے ہوں یا سیکھنے والے ہوں ، اثر انداز ہونے والے ہوں، یا اثر کو قبول کرنے والے ہوں۔ہر ایک کے لئے یہ حکم دیا