خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 104
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۴ خطبه جمعه ۵ ۱۷ پریل ۱۹۶۸ء تو لوگوں سے مشورہ لے خلیفہ وقت لوگوں سے مشورہ مانگتا ہے اس پر لوگ مشورہ دیتے ہیں اور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خلیفہ وقت فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی بات ہونی چاہیے اور کون سی (نہیں)۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تم کسی نتیجہ پر پہنچ جاؤ تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اور پختہ یقین پر قائم ہوتے اور رہتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے وہی ہماری مدد کرے تو ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اگر وہ ہمارا ساتھ چھوڑ دے تو ہم ناکامی کا منہ دیکھیں گے خدا پر توکل رکھتے ہوئے اپنے فیصلہ کو جاری کر دو اور فَإِذَا عَزَمْتَ کے اوقات میں جب خلیفہ وقت اپنے فیصلے کا اعلان کرے مسلمانوں کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا۔فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا قف اللهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ (محمد : ۲۲) کہ جب کسی کام کے کرنے کے متعلق خلیفہ ( یہاں عزم جو کہا گیا ہے وہ دوسری جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سوائے خلیفہ کے کسی نے عزم نہیں کرنا نبی کے بعد، جب خلیفہ ) کسی فیصلہ کو پہنچ جائے اور اپنے دل میں پختہ ارادہ کر لے کہ اگر یوں کیا جائے تو جماعت کو روحانی اور جسمانی فائدہ ہے اس لئے یوں کیا جائے گا تو مسلمانوں کا کیا فرض ہے؟ مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ جو انہوں نے اپنے خدا کے ہاتھ پر ہاتھ دے کر خدا اور خلیفہ وقت کے لئے عہد اطاعت باندھا تھا اس کو وہ پورا کریں اور کامل اطاعت کا نمونہ دکھاتے ہوئے خلیفہ وقت کے فیصلوں کی تعمیل میں لگ جائیں۔لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ دنیا کی بہتر سے بہتر جزا اور اُخروی زندگی میں اعلیٰ سے اعلیٰ ثواب انہیں ملے گا۔لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ - جس وقت شوری میں مشورہ کے لئے بلایا جائے تو ایک تو ہر اس احمدی کا فرض ہے جس کی نمائندگی کی منظوری مل گئی ہو کہ وہ شوریٰ میں آئے۔دوسرے اس پر فرض ہے کہ وہ شوریٰ میں با قاعدگی کے ساتھ بیٹھا ر ہے۔تیسرا اس کا یہ فرض ہے کہ پوری توجہ کے ساتھ وہ کا رروائی کو سُنے اور پھر اس کا یہ فرض ہے کہ وہ پوری دیانتداری کے ساتھ جذبات کی رو میں نہ بہتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرے خواہ الفاظ کے ذریعہ اگر اسے بولنے کا موقع ملے اور موقع دیا جائے یا ہاتھ کھڑا کر کے ووٹنگ کے ذریعہ اگر ووٹنگ ہو اور اس کا سب سے اہم فرض یہ ہے کہ وہ سارا وقت دعاؤں میں مشغول رہے اور اپنے رب کے حضور عا جزا نہ جھک کے اس سے یہ گزارش کرے کہ