خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 100 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 100

خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۵ را پریل ۱۹۶۸ء ہے اس لئے سب کو اکٹھا کر کے تو مشورہ نہیں لیا جا سکتا پھر کن سے مشورہ لیا جائے اور ان کا انتخاب کس رنگ میں ہو؟ یہ کام بھی جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ظاہر ہوتا ہے خلیفہ وقت کا ہے چنانچہ یہ جو آل عمران ہی کی آیت کا ایک حصہ جو پہلے میں نے پڑھا تھا يَقُولُونَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَی ءٍ اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ بعض لوگوں کو خاص طور پر مشورہ سے باہر رکھا جاتا تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یہ نہ کہتے هَلْ لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَی ءٍ تو بعض ایسے لوگ جن کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ ان میں نفاق پایا جاتا ہے یا یہ دل کے مریض ہیں روحانی طور پر ، اور معاملہ ایسا ہے کہ ان لوگوں کے سامنے رکھا نہیں جانا چاہیے تو ان لوگوں کے سامنے وہ معاملہ نہیں رکھتے اور ان کا مشورہ بھی نہیں لیتے تھے گواگر اس قسم کے امور نہ ہوں تو پھر کھلم کھلا جو منافق ہو بعض دفعہ ان سے بھی مشورہ لے لیا جاتا۔اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا کیونکہ فیصلہ تو بہر حال نبی نے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں خلیفہ نے ہی کرنا ہے تو ھم جو کہا گیا ہے اس کا فیصلہ خلیفہ وقت نے کرنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی یہی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد بھی یہی ہے بعض لوگوں کو روکا جاسکتا ہے اور ان کی نمائندگی کو ر ڈ کر دیا جا سکتا ہے آپ شوریٰ کی ایک تقریر میں فرماتے ہیں۔جو لوگ لڑا کے اور فسادی ہوں، نمازوں کی پابندی کرنے والے نہ ہوں ، جھوٹ بولنے والے ہوں ، معاملات میں اچھے نہ ہوں ، بلا وجہ ناجائز افترا اور اعتراض کرنے والے ہوں یا منافق یا کمزور ایمان والے ہوں ان کو بطور نمائندہ انتخاب کرنا جماعت کی جڑ پر ئبر رکھنا ہے۔ہمارے لئے وہی لوگ مبارک ہیں جن کے اندر دین اور تقویٰ ہے خواہ وہ اچھی طرح بول بھی نہ سکتے ہوں۔تو بعض دفعہ مقامی جماعت کو علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ شخص کس قسم کا ہے اور بڑی دیانتداری کے ساتھ عدم علم کی وجہ سے ایک ایسے شخص کو جو منافق ہوتا ہے حقیقتاً اپنا کوئی عہدیدار منتخب کر لیتے ہیں پریذیڈنٹ یا امیر بنا دیتے ہیں، یا مجلس شوری کا نمائندہ بنا کے بھیجنا چاہتے ہیں لیکن چونکہ یہ مشورے ہیں خلیفہ وقت کو جس کو کہنے والوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ( کہنے والے نے اتباع