خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 97
خطبات ناصر جلد دوم ۹۷ خطبه جمعه ۱/۵ پریل ۱۹۶۸ء ان کی تربیت کا بھی۔اس لئے اے نبی ! ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ فَاعْفُ عَنْهُمْ تربیتی کمزوری کے نتیجہ میں ان سے جو غلطیاں سرزد ہو جائیں ان سے در گزر کرو اور وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بشری کمزوریوں کو دور کرے اور روحانی طاقت انہیں عطا کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بہترین انعاموں کے وارث ہوں۔وَشَاوِرُهُمْ فِي الْآمر اور ان کے دلوں پر بشاشت پیدا کرنے کے لئے اور دنیا میں ان کی عزت کو قائم کرنے کے لئے الامر میں ان سے مشورہ کیا کرو کام سب خدا نے کرنے تھے۔فیصلہ سب اللہ تعالیٰ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے۔لیکن چونکہ مخلصین ان مشوروں میں شامل ہوتے تھے۔آج بھی ہم بڑی عزت سے ان کا نام لیتے اور بڑی عزت سے ان کی یاد اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔تو فرما یا شاوِرُهُم في الأمر - اسلام کے اہم امور کے متعلق ان میں سے جن سے چاہو۔جن امور کے متعلق چاہو۔مشورہ کر لیا کرو۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ سب مشورے سننے کے بعد جب کسی نتیجہ پر پہنچو اور پختہ ارادہ کرو کہ یوں ہونا چاہیے اور یوں نہیں ہونا چاہیے تو اس وقت کثرتِ رائے کی طرف نظر نہ کرو۔فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو اور یقین رکھو کہ حقیقتاً وہی کارساز ہے کیونکہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر ہی تو گل رکھنے والے ہو گے تو تمہیں بشارت دی جاتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے پیار اور محبت کا سلوک کرتا ہے اور مسلمانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اِنْ يَنْصُرُ كُمُ اللهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ (ال عمران:۱۱۰) اگر اللہ تعالیٰ کسی کی مدد اور نصرت کرنا چاہے اور اسے کامیاب کرنا چاہے تو کوئی طاقت دنیا کی ایسے گروہ اور جماعت کو اور اُمت کو مغلوب نہیں کر سکتی نہ قانون کر سکتا ہے لیکن اگر اللہ مدد چھوڑ دے فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ - تو کسی کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے تم کوئی کام کرو گے اور کامیابی کی امید رکھو گے۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ یعنی جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محض اللہ پر تو گل رکھنے والے ہیں اسی طرح آپ کی سنت کی اور آپ کے اُسوہ کی اتباع کرتے ہوئے مومنوں کا یہ فرض ہے کہ وہ بھی صرف اللہ ،صرف اللہ پر توکل کرنے والے ہوں۔شوریٰ کے متعلق یہاں جو تعلیم دی گئی ہے اس کے بعض حصوں کی میں وضاحت اس لئے