خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1008 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1008

خطبات ناصر جلد دوم ۷۰۰۱ خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۶۹ء کرتا جائے اور جلسہ کے موقع پر زیادہ سے زیادہ مہمان ہمارے ہاں ٹھہریں اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان کی خدمت کریں اپنے گھروں میں ٹھہرا کر بھی ہم ان کی خدمت کر رہے ہوں۔اور اپنے بعض افراد خاندان کو رضا کارانہ طور پر جلسہ کے انتظام کے لئے پیش کر کے بھی ہم ان کی خدمت کر رہے ہوں۔ہمیں ہر لحاظ سے اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی برکتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لئے کوشش اور سعی کرنی چاہیے اور دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں میں کسی قسم کا فتور نہ آنے دے۔ہم محض اس کی رضا کے لئے ، اس کی رضا کی جنت کے حصول کے لئے اور خوشنودی کے لئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہم کام کر رہے ہوں۔خدا کرے کہ جب ہم حشر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مجمع میں ہوں اور آپ کی نظر ہم پر پڑے تو آپ ہم سے خوش ہوں کہ اتنا لمبا عرصہ بعد میں پیدا ہونے والوں نے بھی میرے ساتھ وہ محبت اور پیار کا سلوک کیا جو میرے زمانہ میں میرے صحابہ نے مجھ سے کیا تھا۔غرض خدا تعالیٰ کی برکات کو حاصل کرنے کی کوشش ہر وقت کرتے رہنا چاہیے۔جلسہ سالانہ ان برکتوں کے حصول کا ایک عظیم موقع ہے ہمیں اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے مکان بھی دیں رضا کا ربھی دیں توجہ بھی دیں جتنا وقت کوئی دے سکتا ہے وہ بھی دے پھر ماحول کو صاف رکھنے کی کوشش کریں اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اتنا بڑا مجمع ہوتا ہے اور حفظانِ صحت کا بھی کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں ان مختلف و باؤں سے محفوظ کر لیتا ہے جن کے حملہ کرنے کا اس موقع پر خطرہ ہوتا ہے۔اس کے بڑے احسان ہیں، بڑے فضل ہیں۔بڑے پیار کے نظارے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے آتے ہیں لیکن خوف یہ ہوتا ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص لا پرواہی سے اور بے توجہی سے خدا تعالیٰ کے اس پیار کو ٹھکرانے والا نہ بن جائے۔ہم سارے کے سارے اس کی محبت کے اور اس کے پیار کے نظاروں کی قدر کرنے والے ہوں۔ہم اس کی حمد کرنے والے اور اس کا شکر بجالانے والے بن جائیں اور جتنی زیادہ سے زیادہ برکت اور رحمت اکٹھی کر سکیں وہ اس چھوٹی سی عمر میں جو دنیا کی عمر ہے اکٹھی کر لیں۔دنیا کی کیا عمر ہے ۶۰، ۷۰ ، ۸۰ یا سو سال بھی ہوتی تو وہ اس ابدی زندگی کے مقابلہ میں کیا ہے جس کا وعدہ ہمیں دیا گیا