خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 983
خطبات ناصر جلد دوم ۹۸۳ خطبه جمعه ۱۴ / نومبر ۱۹۶۹ ء فرمایا ہے کہ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة رمضان کی عبادتوں کو توجہ، ہمت اور عزم سے ادا کرو اور اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ ادا کرو۔عاجزی ، فروتنی اور انکسار کے ساتھ ادا کرو۔دوسروں پر صرف عدل اور انصاف ہی کا ہاتھ نہ رکھتے ہوئے بلکہ ان کے سروں پر جود اور سخا کا ہاتھ رکھتے ہوئے اور اپنے نفس کو برائیوں سے بچاتے ہوئے ان عبادات کو ادا کرو اور اپنے نفس کو شریعت کے احکام کا اس طرح پابند کرتے ہوئے ادا کرو کہ پھر احکام شریعت اور نفس انسانی میں دُوری پیدا نہ ہو سکے۔پھر اللہ تعالیٰ سے یہ بھی کہو کہ اے خدا تو نے مجھے جو کچھ دیا تھا میں نے اس سے کام لیا ہے اور اتنا کام لیا ہے جتنی میری طاقت تھی۔لیکن اے میرے رب تو نے ہمیں مزید رفعتوں کے حصول کی استعداد عطا کی ہے۔ان مزید رفعتوں کے حصول کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ ہمیں عطا کر۔ہم تیرے ناشکرے بندے ثابت نہیں ہوئے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اپنی طاقت سے آئندہ بھی ناشکر گزار بندے نہیں بنیں گے۔اس لئے تیرے حضور ہماری یہ التجا بھی ہے کہ تو ہمیں ہمیشہ اپنے ہاتھ کا سہارا دے تو ہمیں ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھتا کہ ہم ہمیشہ ہی تیرے شکر گزار بندے بنے رہیں۔پس یہ مہینہ صبر کے ساتھ اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ باندھنے کا ہے تا حقوق اللہ اور حقوق العباد اس رنگ میں ادا ہو جا ئیں جس رنگ میں کہ ہمارا رب چاہتا ہے کہ ہم ادا کریں اور نہایت عاجزی اور فروتنی کے ساتھ اور نفس کے ہر قسم کے موٹاپے کو اپنے پیچھے چھوڑتے ہوئے ادا کریں تا کہ ہمارے لئے مغفرت کے سامان ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان کر دے کہ جو کچھ ہمیں ملا ہے اس حد تک بھی ہم اللہ تعالیٰ کے قرب کو اس کے نتیجہ میں حاصل کرنے والے ہوں اور اپنی استعداد کے مطابق جس قسم کی رفعتیں ہم حاصل کر سکتے ہیں وہ رفعتیں ہم حاصل کر سکیں۔ہمارا رب کریم ، ہمارا رب رحیم اور ہمارا رب غفور پردہ پوشی سے کام لے۔اپنے فضل سے کام لے، اپنی ربوبیت کے فیض سے ہمیں ہمیشہ مستفیض کرتا رہے تاہم اپنی استعداد کے کمال تک پہنچ جائیں۔یہ وہ سبق ہے جو رمضان کا مہینہ ہمیں دیتا ہے یہ وہ برکات ہیں جو رمضان کے مہینہ میں ہم حاصل کر سکتے ہیں خدا کرے کہ ہم اس سبق کو ہمیشہ ہی یا درکھیں۔