خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 972 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 972

خطبات ناصر جلد دوم ۹۷۲ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۶۹ء کرنا یہ صفت رحیمیت کی تائید سے وقوع میں آتا ہے۔پس قرآن کریم پر غور کرنا اور یہ عہد اور یہ نیت کرنا کہ ہم اس کے احکام پر عمل کریں گے اور پھر عملاً سعی اور کوشش کرنا یہ ساری چیزیں اس وقت ثمر آور ہوتی ہیں جب انسان اللہ تعالیٰ ہی کے فضل سے اس کی صفت رحیمیت کو جوش میں لاتا ہے اور صفت رحیمیت کی برکت سے کلام الہی سیکھتا ہے۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو بھی فرمایا ہے وہ قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت کی تفسیر ہی ہے اس لئے آپ کی اس عبارت کی رُو سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ میرے کلام کو ، اس کلام عظیم یعنی اس قرآن کریم کو جو نور محض کے چشمہ سے ہمارے لئے نور محض بن کر نکلا ہے اس سے تم حقیقی فائدہ صرف اسی صورت میں اُٹھا سکتے ہو اور اس کی برکات اور اس کے انوار تمہیں صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتے ہیں کہ تم اس کو غور سے پڑھو۔قرآن کریم کے یہ برکات اور یہ انوار جن سے ہم نے متمتع ہونا ہے یہ فی ذاتہا ہمارا مقصود نہیں بلکہ یہ ذریعہ ہیں ایک اور مقصد کے حاصل کرنے کا یہ مقصد قرب الہی کا حصول ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم قرآن کریم کے فیوض اور برکات اور اس کے انوار سے متمتع ہونے کے بعد قرب الہی کو صرف اس صورت میں حاصل کر سکتے ہو کہ خدائے رحیم کی رحمت جوش میں آنے اور خدا تعالیٰ کی رحمت کو جوش میں لانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جس قدر کسی کے دل میں خلوص اور صدق پیدا ہوتا ہے جس قدر کوئی جد و جہد۔سے متابعت اختیار کرتا ہے۔اسی قدر کلام الہی کی تاثیر اس کے دل پر ہوتی ہے اور اسی قدر وہ اس کے انوار سے متمتع ہوتا ہے۔پس اس کے لئے کوشش اور مجاہدہ کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ کوشش اور مجاہدہ پانچ جہتوں سے محفوظ کر کے ماہ رمضان میں رکھا ہے یعنی ایک یہ کہ روزہ رکھنا ہے جس کے معنی ہیں کہ نفسانی شہوات سے پوری مستعدی اور پوری بیداری اور جوش کے ساتھ محفوظ رہنے کی کوشش کرنا اور جو اعمال صالحہ ہیں جن کو قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے اور جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل جوش مارتا ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے یہ اعمالِ صالحہ بجالا نا اللہ تعالیٰ کے حق