خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 970 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 970

خطبات ناصر جلد دوم ۹۷۰ خطبہ جمعہ کے رنومبر ۱۹۶۹ء انسان کو حاصل نہیں ہو سکتیں۔اس کے لئے بڑی جد و جہد کی ضرورت ہے اور یہ بات اچھی طرح یا درکھنی چاہیے کہ قرآن کریم کے فیوض سے انسان تبھی حصہ وافر لے سکتا ہے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کو جوش میں لائے۔اسی لئے رمضان کے مہینے میں کثرت تلاوت پر زور دیا گیا ہے حالانکہ اور بہت سی روحانی مشقتیں (اگر دنیا کا محاورہ استعمال کیا جائے ) اس پر ڈالی گئی تھیں۔دن کو بھوکا پیاسا رہنا اور پابندیاں سہنا اور پھر لوگوں کا خیال رکھنا اور پھر یہ بھی دیکھنا کہ دوسروں کے دکھوں کو دور کرنے کے لئے رمضان کے دنوں میں اسے باہر جانا پڑے گا اور اسے جانا چاہیے اگر اس نے روزے کا حق ادا کرنا ہے۔پھر رات کے نوافل ہیں لیکن ان ساری چیزوں کے با وجود مثلاً قرآن کریم کی اس تلاوت اگر خود قاری ہو یا اس سماع کے علاوہ اگر وہ خود قاری نہ ہو تراویح پڑھ رہا ہو اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کی جائے۔ہمارے بزرگ محدثین یعنی علم حدیث حدیث کے جو علماء تھے وہ تو رمضان کے مہینے میں اپنی حدیث کی کتب کے مسودات اور پوتھیاں وغیرہ کو بند کر دیتے تھے اور صرف قرآن کریم کو ہاتھ میں پکڑ لیتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ رمضان میں قرآنِ کریم کی کثرت سے تلاوت کی جائے۔دوسرے بزرگ صحابہؓ بھی بڑی کثرت سے تلاوت کرتے تھے۔بعض تو تین دن کے اندر سارے قرآن کریم کو ختم کر لیتے تھے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں کو تین دن میں ختم کرنے کا ویسے ہی شوق ہوتا ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو تین دن میں ختم کر لیا۔دراصل اس طرح جلدی جلدی سمجھے بغیر تین دن میں قرآن کریم کو ختم کرنا ثواب نہیں ہے البتہ قرآن کریم پر جو شخص عبور رکھتا ہے وہ اگر قرآن کریم کو جلدی پڑھتا جائے تب بھی چونکہ اس نے قرآن کریم کو کثرت سے پڑھا ہوا ہوتا ہے اس لئے سارے معانی اس کو یاد آنے شروع ہو جاتے ہیں اور نئے معانی پر اس کا ذہن اللہ تعالیٰ کے فضل سے عبور حاصل کرتا چلا جاتا ہے یہ تو ٹھیک ہے کہ اس طرح تین دن کے اندر قرآن کریم کو پڑھ لیا لیکن جس شخص کو معمولی ترجمہ آتا ہے اگر وہ ریل گاڑی کی طرح تین دن میں قرآن کریم کو ختم کرنا چاہے تو یہ اس کے لئے ثواب کا کام نہیں ہے۔قرآن کریم کوئی ٹونہ یا تعویذ یا جادو نہیں ہے۔قرآن کریم تو حکمت اور انوار سے پر اللہ تعالیٰ