خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 969 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 969

خطبات ناصر جلد دوم ۹۶۹ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۶۹ء سے اس پر رجوع برحمت ہوگا اور نجات اور جنت کے دروازے آسمانوں پر کھولے جائیں گے اور قرب کی راہوں پر چلنا اس کے لئے آسان ہو جائے گا۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں قیام الیل کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔آپ نے فرمایا مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه۔یعنی جو شخص راتوں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی حمد کے لئے اور اس کے بندوں کے لئے دعائیں کرتے ہوئے جاگتا اور شب بیداری اختیار کرتا ہے اس لئے کہ وہ ایمان کے تضاضوں کو پورا کرنے والا ہو اور اس لئے کہ جب وہ اس دنیا میں ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے تو اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھے کہ وہ ان کوششوں کو قبول کرے گا اور اس کے نتیجہ میں اس کو آخرت کی نعماء ملیں گی۔جو ایسا کرے گا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ جو کوتاہیاں اور غفلتیں اس سے ہو چکی ہوں گی اللہ تعالیٰ اپنی صفت رحیمیت کے جوش میں ان کو تاہیوں کو ڈھانپ لے گا اور کوئی جزائے بد جس کا وہ دوسری صورت میں مستحق ہوتا وہ اسے نہیں ملے گی۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص رمضان کے مہینے میں کثرت سے تلاوت قرآن کریم کرتا ہے اس کا بھی اُسے ثواب ملتا ہے کثرت تلاوت قرآن کریم کا ثواب بھی اور دوسرے ثواب بھی محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتے ہیں۔جب انسان اس فضل کو جذب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور اس طرح جب اللہ تعالیٰ کے رحیم ہونے کی صفت جوش میں آتی ہے تب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنی رضا کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے جزا دیتا ہے۔قرآن کریم کی تلاوت نیکی تو ہے لیکن صرف اسی صورت میں کہ شرائط پوری ہوں۔قرآن کریم کی تلاوت تو عیسائی بھی کرتے ہیں مگر وہ اس کی تلاوت اس نیت سے کرتے ہیں کہ قرآن کریم پر اعتراض کریں۔قرآن کریم کی تلاوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی کیا کرتے تھے مگر آپ نے اس پاک ترین نیت کے ساتھ تلاوت کی کہ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ فضل آپ پر نازل ہوا۔پس کثرت تلاوت قرآن کریم ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ خلوص نیت بھی نہایت ضروری ہے۔اس کے بغیر تلاوت کی جو نعمتیں ہیں یا قرآن کریم کی جو نعمتیں ہیں وہ