خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 952
خطبات ناصر جلد دوم ۹۵۲ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۶۹ء کریں تا کہ ان کے دلوں میں حقیقی نیکی اور تقویٰ پیدا ہو جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس طرح محبوب بن جائیں جس طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی رحمتوں سے حصہ پانے والے تھے۔ہم پر دوسری ذمہ داری یہ عائد کی گئی ہے کہ وہ قومیں جو خدا تعالیٰ سے دُوری اور بعد کے نتیجہ میں خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والوں پر ظلم ڈھا رہی ہیں۔ان کو اسلام کی طرف لانے کی کوشش کریں کیونکہ اسلام ہی ایک زندہ مذہب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو ایک زندہ رسول ہیں جن کے روحانی فیوض و برکات قیامت تک جاری ہیں اور خدائے قادر و توانا کی طرف جو زندہ خدا اور عظیم قدرتوں والا خدا ہے اور ہر قسم کی صفاتِ حسنہ سے متصف ہے اور جس کے سامنے کوئی چیز انہونی نہیں ہے اور جس کا قہر ایک لحظہ میں ہر چیز کو ہلاک اور ملیا میٹ اور نابودکرسکتا ہے۔اس زندہ خدا اور اس زندہ رسول کی طرف ان کو لانے کی کوشش کریں اور تبشیر کے ساتھ انذار کے پہلو کو مد نظر رکھیں۔ہم ان کے پاس جائیں اور ان کو جھنجھوڑ میں ان کو جگانے اور بیدار کرنے کی کوشش کریں مگر وہ اس طرح خواب میں بدمست پڑے ہیں کہ ہماری آواز سننے کے وہ اہل ہی نہیں اور جو نیند سے بیدار ہیں وہ ہماری آواز کو سننے کے لئے تیار نہیں لیکن اگر چہ وہ ہماری آواز کو سننے کے لئے تیار نہیں اگر چہ ان میں سے بہت سے روحانی لحاظ سے اتنی گہری نیند میں مد ہوش ہیں کہ ہماری آواز ان کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتی لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ تم جاؤ اور ان کو جگاؤ اور بیدار کر و اور ان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی طرف لے کر آؤ اور اسلام نے جس ہستی کو اللہ کے طور پر پیش کیا ہے اس سے ان کو متعارف کراؤ اور ان کے دلوں کے سارے اندھیروں کو اسلام کے نور سے منور کرنے کی کوشش کرو اور ان کے اندر نیکی اور تقویٰ کا بیج بود و۔اس غرض کے لئے پہلے زمین صاف کرنی پڑتی ہے اور اسے کاشت کے قابل بنانے کے لئے بڑی جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔پھر اس قسم کا بیج بویا جاتا ہے ہم کمزور اور بے بس اور بے مایہ ہیں مگر کام بڑا ہی اہم ہے جو ہمارے سپر د کیا گیا ہے۔ذمہ داری بڑی ہی بھاری ہے جو ہمارے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے مگر ساتھ ہی ہمیں بڑی بشارتیں بھی دی