خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 945
خطبات ناصر جلد دوم ۹۴۵ خطبہ جمعہ ۱۷/اکتوبر ۱۹۶۹ء فتنوں سے ہر قسم کا فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ منکر کو بھی نا کام کرے گا۔اللہ تعالیٰ مفسد اور منافق کو بھی کامیابی کی راہ نہیں دکھائے گا لیکن یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو مختلف قسم کی قوتیں اور قابلیتیں عطا کی ہیں تم وہ ساری کی ساری خدا کی راہ میں وقف کر دو اور پھر تم کہو کہ اے خدا! ہم نے اپنی طرف سے جو بھی ہمارا تھا وہ خلوص نیت سے تیرے حضور پیش کر دیا۔ہمیں معلوم ہے کہ ہم غریب ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ ہم بے مایہ ہیں ، ہمیں معلوم ہے کہ ہم کمزور ہیں مگر اے خدا ہم نے تیرے دامن کو پکڑا اور ہم اس یقین پر بھی قائم ہیں کہ تو سب قدرتوں والا ہے تو ایسا کر کہ ہماری کوششیں تیری نظر میں مقبول ہوں اور تیرے وعدے ہماری زندگیوں میں پورے ہوں تا کہ اس دنیا میں ہشاش بشاش تیری جنتوں میں داخل ہو کر تیری دوسری جنتوں میں داخل ہونے کے لئے یہاں سے کوچ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ اور توفیق دے کہ ہم اس مرکزی نقطہ کو سمجھیں کہ یہ ذمہ داری جو ہم پر ڈالی گئی ہے یہ ہم نے ہی نبھانی ہے۔کسی اور نے آکے نہیں نبھانی اور اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی استعدادوں کی نشو و نما اس رنگ میں کریں کہ جس رنگ میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم کریں اور اپنی ہر طاقت، اپنی ہر قوت اپنی ہر استعداد اور قابلیت پر اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا رنگ چڑھانے کی کوشش کریں۔بے نفس ہوں اور فنا کی چادر میں خود کو لپیٹ لیں اور اللہ تعالیٰ میں گم ہو جائیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔روزنامه الفضل ربوه ۱۰؍ دسمبر ۱۹۶۹ ، صفحه ۳ تا ۵)