خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 919
خطبات ناصر جلد دوم ۹۱۹ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء یہ ایک مکمل ہدایت نامہ اور کامل شریعت ہے یہ سر چشمہ ہے ہر خیر کا ، یہ منبع ہے ہر برکت کا اور یہ ذریعہ ہے ہر فیض کے پانے کا۔لاریب یہ ایک عظیم کتاب ہے جس کی عظمتوں کی کوئی انتہا نہیں۔اس عظیم کتاب کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ یہ کتاب مبین ہے یعنی اس کے وہ عمیق اسرار جو ہم سے پہلوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل کئے اور ہم تک پہنچائے۔جب تک اُن کے لئے ان اسرار اور ان رموز اور ان نئی سے نئی حکمتوں، دلائل عقلیہ اور فلسفہ یا اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کی نئی راہوں کی نشاندہی نہیں ہوئی تھی یہ ساری چیزیں قرآن کریم کے دوسرے حصے یعنی کتاب مکنون کا حصہ تھیں لیکن جب ہمارے اسلاف میں سے نامور بزرگوں نے قرآن کریم کے بعض حقائق کو ہمارے سامنے پیش کیا ، اس کے اسرار اور رموز سے پردہ اُٹھایا، عقلی اور نقلی دلائل سے اس کی صداقتوں کو ثابت کیا تو ان کی اس تشریح و توضیح کے نتیجہ میں ہمارے لئے یہ کتاب مبین بن گئی کیونکہ اس کے رموز و اسرار پر سے پردہ ہم سے پہلے آنے والوں نے اٹھایا تھا لیکن جس طرح گلاب کے پھول کی پتیاں ایک کے بعد دوسری کھلتی ہیں اور خود نمائی اور حسن و خوبصورتی کو دوبالا کرتی چلی جاتی ہیں۔اسی طرح قرآن عظیم کی علم و عرفان کی باتیں گلاب کے پھول کی پتیوں کے مشابہ ہیں۔جب اس کے پر حکمت کلمات پر سے پردہ اُٹھتا ہے تو ہمیں نیچے اور پتیاں نظر آتی ہیں۔ایک نیا زمانہ آتا ہے ایک نئی نسل پیدا ہوتی ہے وہ قرآن مبین سے یعنی جو پہلے تفسیر ہو چکی ہے اس سے فائدہ اُٹھاتی ہے۔پھر لوگ دعائیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے ان کے لئے نئی پیتیاں کھلتی ہیں اسرار روحانی سے پردہ اُٹھاتے جاتے ہیں انہیں نئے طریقوں کا علم ہوتا ہے نئے علوم کا پتہ لگتا ہے۔پس قرآن کریم کا ایک پہلو تو مین ہے اور اس پہلو میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر نسل اضافہ کرتی چلی آئی ہے اور ہر نسل ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کتاب مکنون اور اس کی حکمتوں کی وارث بھی بنتی رہی ہے۔ہر نسل کو نئے سے نئے علوم حسب ضرورت اور بتقاضائے حالات دیئے جاتے رہے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑا رحم کرنے والا ہے۔اس نے کسی چیز کو بے سہارا نہیں چھوڑا۔ہمارے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی تأثیروں نے اس انتہائی جوش کی حالت میں آئندہ زمانوں کے لئے