خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 889 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 889

خطبات ناصر جلد دوم ۸۸۹ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء ہمارے اقتصادی نظام کی منصوبہ بندی اور اس کے فیصلوں کی بنیا د حق و حکمت پر مبنی ہونی چاہیے خطبه جمعه فرموده ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اسلام کی اقتصادی تعلیم کے اصول اور فلسفہ کے متعلق جو خطبات میں دیتا رہا ہوں انہیں کے تسلسل میں میرا آج کا خطبہ ہے۔میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم نے جب مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ کا حکم فرمایا تو دین کے جو گیارہ لغوی معانی یہاں چسپاں ہوتے ہیں ان سب تقاضوں کو پورا کرنے کا حکم دیا۔اسلام نے عبادت محض ذکر کو یا محض دعا کو یا محض عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کو قرار نہیں دیا بلکہ اسلامی تعلیم انسان کے ہر عمل کے متعلق ایسی ہدایت دیتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا ایک مخلص بندہ اپنے عمل کو اس کی ہدایت کے مطابق کرے تو اس کا ہر عمل خواہ وہ دنیا دار کی نگاہ میں ایک دنیوی عمل ہی کیوں نہ ہو عبادت بن جاتا ہے۔اسلام نے انسان کی اجتماعی زندگی اور اقتصادی تقاضوں کے متعلق بھی ایک حسین تعلیم ہمیں عطا کی ہے۔اگر ہم اپنے اقتصادی تعلقات اور اقتصادی زندگی میں اسلام کی بتائی ہوئی تعلیم کو مد نظر رکھیں اور اس پر عمل کریں تو ہماری ہر ا قتصادی کوشش بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت بن جاتی ہے۔دین کے آٹھ معانی کے متعلق میں اس سے پہلے بیان کر چکا ہوں۔اس کے نویں دسویں