خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 883 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 883

خطبات ناصر جلد دوم ۸۸۳ خطبہ جمعہ ۱۹ ستمبر ۱۹۶۹ء جب تک وہ حسن اور احسان کا جذبہ ہمارے اندر پیدا نہ ہو اس وقت تک ہم دنیا میں تو حید کو قائم نہیں کر سکتے۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ ربوبیت کی صفت اپنے اندر پیدا کرے اور جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اسے توفیق اور طاقت عطا کی ہے وہ اپنے دائرہ میں پرورش کا متکفل ہو مثلاً اگر وہ خاندان کا بڑا فرد ہے تو وہ اپنی استعداد کے مطابق پرورش کا متکفل ہو۔اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی استعداد سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور پھر جماعت کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے بھی وہ ربوبیت کی صفت اپنے اندر پیدا کرے۔جماعت بحیثیت جماعت اپنے اندر ربوبیت کی صفت پیدا کرنے کے لئے۔اس لئے کوشش کرے کہ وہ سمجھے کہ دنیا میں ہم نے تو حید باری کو قائم کرنا ہے اور جب تک ہم اپنے نظام میں، اپنے کام میں اور اپنے عمل میں ربوبیت کی صفت پیدا نہیں کریں گے ہم دنیا میں تو حید کو قائم نہیں کر سکتے۔غرض جس وقت تک ہر فرد جماعت بحیثیت ایک فردِ جماعت، جماعت کے کام میں اپنی ذمہ داری کو نہ نہا ہے اس وقت تک تو حید حقیقی دنیا میں قائم نہیں ہو سکتی۔پس ہم پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ربوبیت کی صفت انفرادی حیثیت میں بھی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے اندر پیدا کریں۔پھر رحمانیت کے جلوے ہیں۔ہمارے پہلوں نے بڑی خوبصورتی اور بڑے حُسن کے ساتھ ان جلوؤں کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کا واقعہ ہے کہ آپ نے ایک بچے کو روتے دیکھا تو دریافت کیا کہ یہ کیوں روتا ہے۔اس بچے کی ماں نے بتایا کہ چونکہ دودھ پیتے بچے کا راشن منظور نہیں کیا جاتا اس لئے میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے۔اب بچہ گندم یا کھجوریں وغیرہ نہیں کھا سکتا لیکن چونکہ دودھ چھڑانے کے نتیجہ میں اس کی جسمانی تربیت اور نشو و نما پر ایک برا اور گندہ اور مہلک اثر پڑتا ہے اور اس کا اثر پھر روحانی تربیت پر بھی پڑے گا اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خدائے رحمن کی صفت کو اپنے نظام میں جاری فرمایا اور دودھ پیتے بچوں کے لئے راشن مقرر کر دیا۔ہم سینکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں ایسی دے سکتے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم ہر وقت چوکس اور بیدار رہتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی