خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 876 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 876

خطبات ناصر جلد دوم AZY خطبہ جمعہ ۱۹ ستمبر ۱۹۶۹ء اپنے فضل سے ہمیں عطا کئے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کے حسن واحسان کے جلوؤں سے آشنا کریں۔تیسری ذمہ داری ہم پر یہ عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے دلوں میں ، اپنی روح میں ، اپنے ذہن میں اور اپنے عمل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قائم کرنے والے ہوں اور چوتھی ذمہ داری ہم پر یہ عائد ہوتی ہے کہ ہم ساری دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قائم کرنے کے لئے انتہائی کوشش کریں اور اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ فرمایا کہ میری بعثت کی اصل غرض یہ ہے که توحید باری تعالیٰ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو دنیا میں قائم کروں تو آپ نے دوسرے الفاظ میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے ایک ایسی جماعت دی جائے گی جو توحید حقیقی پر قائم ہوگی اور جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو جانے اور پہچاننے والی ہوگی اور اس عزت کے لئے ساری ذلتیں قبول کرنے کے لئے تیار ہوگی۔قرآن کریم فرماتا ہے۔وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ۔(المنافقون : ٩) کہ حقیقی عزت کا سچا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ساری عز% توں کا سر چشمہ اسی کی ذات ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ عزت حاصل کی کہ کسی ماں جائے نے نہ ایسی عزت حاصل کی اور نہ کبھی حاصل کر سکتا ہے۔پس سب سے معزز خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس عالمین میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور آپ کی ذات سب سے معزز اس لئے ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس مخلوق میں انسانوں کے لئے اور ان کی روحانی ارتقا کے لئے اپنی جن صفات کے جلوے دکھائے آپ نے ان صفات کو کامل طور پر اپنے اندر جذب کر لیا اور یہ کام کامل فنا کے بغیر ممکن نہیں تھا۔غرض آپ نے اللہ تعالیٰ میں ہو کر زندگی ڈھونڈنے کے لئے اور اس سے حیات پانے کے لئے اپنے اوپر ایک کامل فنا اور ایک کامل موت طاری کی۔تب آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی اور ایک کامل زندگی عطا کی اور چونکہ فنا اور عبودیت کے اس ارفع مقام کو آپ کے سوا اور کسی نے نہیں