خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 825
خطبات ناصر جلد دوم ۸۲۵ خطبه جمعه ۲۹ /اگست ۱۹۶۹ء خدانخواستہ یہ دباؤ کامیاب ہو گئے تو بنی نوع انسان میں سے وہ حصے بھی کہ جو اس وقت تک حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ جوڑے ہوئے ہیں اس رشتہ کو منقطع کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور آپ سے قطع تعلق کر کے اپنی دنیوی ضروریات اور مقاصد کے حصول کے لئے دوسرے مختلف از مز Isms ( نظریات ) سے رشتہ جوڑیں گے حالانکہ یہ مختلف Isms ( نظریات ) صحیح معنی میں انسانی ضروریات اور مقاصد کو قطعاً پورا نہیں کر سکتے۔ہمارے لئے اگر چہ ہر دوسری چیز برداشت کرنا سہل اور آسان ہے لیکن اس چیز کو ہم کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ آج وہ جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور خادم ہیں کل کو آپ سے دور چلے جائیں اور کارل مارکس یا لینن یا سٹالن یا کسی اور انسان سے اپنا تعلق قائم کر لیں اور ان کے ذریعہ سے اپنی ضرورتیں پوری ہونے کی توقع رکھیں حالانکہ ان کے نظریات اور خیالات خود اپنی ذات میں سراسر مہم اور گمراہ کن ہیں یہ چند نعرے ہیں جن کی تعیین نعرے لگانے والوں یا نعرے لگوانے والوں کے دماغ میں بھی نہیں ہے۔غیر معین چیز ویسے بھی حاصل نہیں کی جاسکتی۔اس لئے کسی مقصد کے حصول کے لئے یہ ایک نہایت اہم اور ضروری بات ہے کہ وہ معین اور واضح طور پر ہمارے سامنے ہوا گر وہ معین اور واضح طور پر ہمارے سامنے نہیں تو اس کا حصول پہلے ہی دن سے ناممکن ہو جائے گا۔قرآن کریم نے ہر مقصد بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کیونکہ یہ کتاب مبین ہے اور قرآن کریم نازل کرنے والے نے ایسا سامان پیدا کیا ہے کہ ہر زمانہ میں قرآن کریم کی تعلیم کے وہ حصے جو کتاب مکنون میں ہوتے ہیں وہ ظاہر ہوتے رہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے نیک اور مقرب بندے پیدا ہوتے ہیں وہ ضروریاتِ وقت کو پورا کرنے والے نئے سے نئے علوم کو دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔بهر حال قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ١٦٣) کے مطابق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اُسوہ حسنہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی پر ایمان لانے کے بعد اس اُسوہ پر عمل کرنا ہمارے لئے بدرجہ اولی ضروری ہے یعنی ایک طرف ہم تو حید خالص پر قائم ہوں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہمارا