خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 815 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 815

خطبات ناصر جلد دوم ۸۱۵ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ ء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اعلان کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر آپ ہمارے جیسے ایک انسان ہوکر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سیر روحانی میں بلند ترین مراتب حاصل کر سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے افضال کا مورد بن سکتے ہیں تو اے انسان! تمہارے دل میں مایوسی کیوں پیدا ہوتی ہے۔تمہارے لئے بھی قرب الہی کے دروازے کھلے ہیں تم بھی سیر روحانی میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی روشنی میں اپنی اپنی استعداد کے مطابق انتہائی قربانیوں کے نتیجہ میں بلند تر روحانی مقام حاصل کر سکتے ہو۔چنانچہ فرما یا مَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا اس سے پہلے فرمایا تھا کہ میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں اور بشر ہونے کے لحاظ سے میری عزت بھی اتنی ہی ہے جتنی تمہاری عزت ہے اور اس سے ہمیں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ دنیاوی تفاوت عزت و احترام یا ذلت اور حقارت کا باعث نہیں بننا چاہیے۔اسلام میں ان معنوں میں عزت یا ذلت کا کوئی تصور موجود ہی نہیں ہے کہیں یہ بھی نہیں کہا گیا کہ جو زیادہ مالدار ہے وہ زیادہ باعزت ہے۔کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا جو زیادہ چرب زبان ہے وہ زیادہ عزت والا ہے کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ جس کی تقریر لاکھوں کے مجمع کو مسحور کرتی چلی جاتی ہے اور وہ ایک دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ( دنیوی لحاظ سے کئی ایسے چرب زبان لوگ پیدا ہوئے ہیں) وہ زیادہ معزز ہے اور اسی طرح کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ جس کو کم دولت ملی ہے یا سرے سے ملی ہی نہیں وہ ذلیل اور قابلِ حقارت ہے کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ جو شخص اپنے ماحول میں کسی وجہ سے تعلیم نہیں حاصل کر سکا وہ ذلیل اور حقیر ہے۔کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ ایک شخص جو دنیوی علوم میں کمال حاصل کر لیتا ہے خدائے تعالیٰ کی نگاہ میں اس کی زیادہ عزت و احترام ہے۔احسنِ تقویم یعنی بشریت کے مقام سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی کسی انسان کو کسی دنیوی وجہ سے معزز یا ذلیل قرار نہیں دیا۔چنانچہ ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جن کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ ہمارے اموال ہمیں معزز و محترم بناتے ہیں اور جو رہی اكْرَمَن (الفجر :۱۲) کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن جب بشریت یعنی احسنِ تقویم کے مقام سے انسان سیر روحانی میں بلند سے بلند ہونے لگتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب تم میں سے بعض بعض پر اعزاز و اکرام پانے میں سبقت لے جائیں گے اور بعض اپنی بدعملیوں کی وجہ سے معزز