خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 811
خطبات ناصر جلد دوم All خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ ء قرار دینے لگ جاتا ہے، اس کے ساتھ محبت اور حسن سلوک سے پیش نہیں آتا۔اس کی عزت واحترام نہیں کرتا اگر وہ کسی وقت اس کے گھر میں آجائے تو اسے دھکے دے کر باہر نکال دیتا ہے اور اگر کبھی اس سے بات بھی کرے گا تو اس حال میں کہ ماتھے پر تیوری چڑھانے اور آنکھوں میں عنیض وغضب کے آثار نمودار ہوں گے مگر یہ امیر شخص اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ بحیثیت بشر ہونے کے جو مقام اس کا ہے وہی مقام اس غریب آدمی کا بھی ہے جو اس کو ملنے آیا ہے۔وہ یہ بھول رہا ہوتا ہے کہ اسلام تو انسانی عزت اور اس کے شرف کو قائم کرنے کا حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہیں سے دراصل سیر روحانی کی ابتدا ہوتی ہے اور انسان اپنے مقصدِ حیات کو پالیتا ہے اور سیر روحانی کی ابتدا صرف انسان سے ہو سکتی ہے ، گدھے یا گھوڑے سے نہیں ہوسکتی ، گیدڑ یا چمگادڑ سے نہیں ہو سکتی ، بھیڑیے یا سور سے نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ تو بوجہ خادم انسان ہونے کے خادمانہ طاقتیں لے کر اس دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور خادمانہ زندگی گزارنا ہی اُن کا مقصد حیات ہے۔ہر چیز انسان کی خدمت کے لئے مسخر کی گئی ہے آگے یہ انسان کی اپنی سمجھ اور استعداد پر منحصر ہے کہ وہ ان سے کہاں تک فائدہ اُٹھا تا ہے لیکن ان کی پیدائش کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کی خدمت کریں اور یہ اللہ تعالیٰ کا انسان پر اتنا بڑا احسان ہے کہ اس سے بڑھ کر احسان ہمارے تصور اور گمان میں بھی نہیں آسکتا۔اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو نہ صرف انسان کی خدمت پر مامور کیا ہے بلکہ انسان کو ان پر شرف اور رتبہ بھی بخشا۔انسان کے وسیع تر اختیارات سے ان کو نیچے رکھا۔ان کی فطرت کو یہ اختیار نہیں دیا کہ چاہیں تو وہ انسان کی خدمت کریں اور چاہیں تو نہ کریں ورنہ تو ہماری شیروں سے بھی لڑائی ہوتی گیدڑوں سے بھی لڑائی ہوتی۔بچھوؤں سے بھی لڑائی ہوتی آپس میں رقابت کی جنگ شروع ہو جاتی لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا انسان پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنے فضل سے ہر ایک چیز کو انسان کا خادم بنادیا اور اُسے یہ کہا کہ میں تجھے جو بھی حکم دوں گا تیری فطرت اس کو قبول کرے گی اور اس سے باہر نکلنے کی طاقت نہیں رکھے گی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی قرآن کریم کی اس آیہ کریمہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحریم:۷ ) ( یعنی فرشتوں کو اللہ تعالیٰ جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کے پابند ہوتے ہیں