خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 809
خطبات ناصر جلد دوم 1+9 خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ ء اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں فرمایا ہے کہ اے انسان! ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور تمہارے وجود میں مٹی کی خلق احسنِ تقویم کو پہنچی ہے مٹی کی خلق جو موزوں ترین اور بہترین شکل اختیار کر سکتی تھی وہ تمہارے وجود میں کمال کو پہنچ گئی ہے۔سورۃ تین میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔غرض انسان کو احسنِ تقویم میں پیدا کیا ہے اور احسنِ تقویم کی شکل میں انسان بطور بشر کے ہے پھر تنتشرُون کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء کی تسخیر کے لئے دنیا میں پھیلنا شروع کیا۔پہلے تم نے اپنے ماحول کی چیزوں سے فائدہ اُٹھا یا پھر چونکہ تمہاری فطرت میں یہ جذبہ رکھ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ماحول یعنی اپنے ملک کی چیزوں سے تسلی نہیں پاتی اور انسان سمجھتا ہے کہ ساری دنیا کی چیزیں اس کے لئے پیدا کی گئی ہیں اس لئے وہ ساری دنیا میں پھرنے کے لئے نکل کھڑا ہوا اور دنیا کی ہر چیز کو اس نے اپنے کام پر لگایا اور اپنے فائدہ کے لئے اُسے استعمال کیا۔دراصل بشر اس مٹی کی تخلیق کی انتہا اور روحانی تخلیق کی ابتدا ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں سے سیر روحانی شروع ہوتی ہے۔پھر آگے جتنی جتنی کسی میں ہمت ہوتی ہے وہ اس کے مطابق روحانی رفعتوں کو حاصل کرتا چلا جاتا ہے البتہ بشریت سے پہلے روحانی رفعتوں کے حصول کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔بشریت کے شرف سے مشرف ہونے کے بعد ہی انسانی مخلوق اللہ تعالیٰ کا قرب اور لبقا کا مقام حاصل کر سکتی ہے۔پس بشریت کے مقام سے سیر روحانی کا آغاز ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کا نام احسنِ تقویم رکھا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ان دو آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے رسول ! تم دنیا میں اعلان کر دو اور اس عظیم الشان اعلان پر مشتمل ان آیات (إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ) کو بشریت کے کمال کے ذکر سے شروع کر کے آگے سیر روحانی پر ختم کیا۔اب ایک ایسے فرد واحد نے خدائی حکم کے ماتحت یہ اعلان کیا کہ میں تم جیسا ہی بشر ہوں۔وہ خدا تعالیٰ کے قریب تر ہوا جیسا کہ خود قرآن کریم کی یہ آیہ کریمہ ہے فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی - (النجم :۱۰) اس حقیقت کی مظہر ہے اور اس