خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 804
خطبات ناصر جلد دوم ۸۰۴ خطبه جمعه ۱۵ /اگست ۱۹۶۹ء غرض کے منافی ہے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی اس لئے حق تمہاری خواہشات کی اتباع نہیں کرے گا۔یہ بڑا گہرا اور اہم مضمون ہے میں نے سوچا ہے کہ تمام بدعات کا سرچشمہ ہوائے نفس اور یہ اعلان ہے کہ آزادی ضمیر ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں غلط قسم کی آزادی ضمیر سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آزادی ضمیر تمہیں نہیں مل سکتی اور یہ فاسد آزادی ضمیر وہ ہے جب آزادی ضمیر کا نعرہ لگا کر انسان خدا کی مقرر کردہ حدود کو پھلانگتا اور ان سے باہر چلا جاتا ہے۔ہاں ان۔حدود کے اندر آزادی ضمیر ہے کسی کی طبیعت کسی نیکی کی طرف زیادہ مائل ہے ہر ایک اپنی فطرت کے مطابق خدا کی مقررہ حدود کے اندر رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں لگا رہتا ہے اور اسی کے فضل سے وہ اس کی رضا کو حاصل بھی کر لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو حدود ہم نے قائم کی ہیں انہی میں تمہاری بزرگی اور عزت ہے تم آزادی کا ، اظہار رائے کی آزادی کا اور آزادی ضمیر کا نعرہ لگا کر اگر ہماری قائم کردہ حدود کو پھلانگ کر پرے چلے جاؤ گے تو اس کے نتیجہ میں تمہاری سر بلندی کے سامان پیدا نہیں ہوں گے تمہیں عزت نہیں ملے گی تمہارا رتبہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی اور بندوں کی نگاہ میں بھی بڑھے گا نہیں بلکہ گھٹ جائے گا کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی انگلی کو چھوڑ کر اپنے نفس پر بھروسہ رکھا فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمُ مُعْرِضُونَ۔مگر انسان جب بہکتا ہے تو اس کی عجیب حالت ہوتی ہے خدا اپنا ہاتھ آگے کرتا ہے اور کہتا ہے اس ہاتھ کو پکڑ اور میری گود میں آبیٹھ اور وہ کہتا ہے نہیں میں تو اپنی مرضی چلاؤں گا اگر میری مرضی ہوگی تو تیری حدود کو توڑوں گا اور اس طرح وہ اس مقامِ عزبات اور اس مقامِ احترام سے گر جاتا ہے جو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا ہے۔اس آیت میں ہمیں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ ہم حدود کی نگرانی کے لئے محافظ کھڑے کریں تا کہ خدا کی مخلوق کو خدا کی ناراضگی اور خدا کے قہر کے جہنم سے بچانے کی کوشش کر سکیں۔اللہ تعالیٰ کی حدود پر کھڑے ہونے والے مجاہدوں میں وقف عارضی کے مجاہدین بھی ہیں سالِ رواں میں اس وقت تک ( تین مہینوں میں) ایک ہزار سے زائد وفود باہر جاچکے ہیں گو بعض