خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 762
خطبات ناصر جلد دوم ۷۶۲ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں ایسے گیارہ تقاضوں کا ذکر ہے جن کا حقیقی عبادت سے تعلق ہے۔اس حقیقی عبادت کا تعلق ہماری زندگی کے ہر شعبہ سے انسان کے ہر فعل بلکہ اس کی ہر حرکت اور سکون سے بھی ہے۔غرض اسلام کا اقتصادی نظام بھی حقیقی عبادت کے ان تمام تقاضوں کو پورا کرتا ہے جن کا ذکر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ میں پایا جاتا ہے۔آج میں حقیقی عبادت کے جس تقاضے کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ ان گیارہ تقاضوں 66 میں سے آٹھواں نقاضا ہے۔لغت میں الدّین “ کے ایک معنی تدبیر کے بھی کئے گئے ہیں۔پس اس لحاظ سے مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے معنے یہ ہوں گے کہ اے بنی نوع انسان ! تمہیں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور اس عبادت کے سب تقاضوں کو پورا کرو۔منجملہ ان تقاضوں کے ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ تمہاری ساری کی ساری تدابیر اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کا رنگ رکھنے والی ہوں۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ مدبر حقیقی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے وہی ساری تدابیر کا سر چشمہ اور منبع ہے۔اس سارے عالمین یعنی آسمانوں اور زمین پر اسی کی تدبیر محیط ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَتِ لَعَلَّكُم بِلِقَاء رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ (الرعد: ۳) که اللہ تعالیٰ ہر امر کے متعلق تدبیر کرتا ہے اور اس کا انتظام کرتا ہے اور وہ یہ انتظام اس لئے کرتا ہے کہ وہ مخلوق جسے اس نے اختیار دیا ہے عقل و سمجھ اور فکر و تدبر کی قوت عطا کی ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس تدبیری نظام میں بہت سی نشانیاں اور علامات اور نمونے قائم ہو جائیں تا کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے تو لعلكُم بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ کی رُو سے اس کا اللہ تعالیٰ سے ایک قرب، ایک محبت کا تعلق قائم ہو جائے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔پس غور وفکر کرنے والا انسان اس یقین پر قائم ہوجاتا ہے کہ یہ سارا کارخانہ عالم اور یہ سارا الہی نظام واقعی اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے بے شمار پہلوؤں پر مشتمل ہے اور اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے تقرب کے لئے ، اپنے وصال کے لئے پیدا کیا ہے۔اسی طرح سو اللہ تعالیٰ سورۃ سجدہ میں فرماتا ہے۔يُدَبِرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ـ (السجدة: 1 ) اللہ تعالیٰ