خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 64
خطبات ناصر جلد دوم ۶۴ خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۶۸ء گامزن ہے اور فرمایا وَ اتَّقُوا اللہ کہ بنیادی حکم تمہیں یہ دیا جاتا ہے کہ تم اللہ کا تقویٰ اختیار کر وا گر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو تمام نیکیاں بھی بجالاؤ گے اور تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ایسی کامیابی کہ جس کی نظیر دنیا میں نہیں ، تقویٰ کے بغیر تم نہیں پاسکتے۔حقیقت یہی ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایام الصلح میں فرمایا ہے۔تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے۔“ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا کہ جب تک انسان تقویٰ کی راہوں کو اختیار نہ کرے روح کے ان خواص اور قومی کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا جس کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔یہ بھی وہی مضمون ہے جو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں بیان کیا گیا ہے کہ تقویٰ کے بغیر روح کے ان خواص اور قومی کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا حالانکہ قرآن کریم تو وہاں موجود ہے جس کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔اس مضمون کو کہ تقویٰ کا تعلق تمام ہی نیکیوں سے ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ تقویٰ ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے۔تقویٰ ایک ایسا قلعہ ہے کہ جب اس کے اندر نیک اقوال اور صالح اعمال داخل ہو جائیں تو وہ شیطان کے ہر حملہ سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر کوئی عمل بظاہر کتنا ہی پاکیزہ اور صالح کیوں نظر نہ آتا ہوا گر وہ اس قلعہ میں داخل نہیں تو شیطان کی زد میں ہے، کسی وقت وہ اس پر کامیاب حملہ کر سکتا ہے کیونکہ اگر تقویٰ نہیں تو کبر پیدا ہوسکتا ہے، ریا پیدا ہوسکتا ہے، جب پیدا ہوسکتا ہے اگر تقویٰ ہے تو ان میں سے کوئی بدی پیدا نہیں ہو سکتی یعنی شیطان کا میاب وار نہیں کر سکتا۔