خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 746
خطبات ناصر جلد دوم ۷۴۶ خطبہ جمعہ ۱۸ / جولائی ۱۹۶۹ء پرنٹ کئے ہوئے نوٹ ( روپے ) اصل دولت نہیں بلکہ کسی فرد یا کسی خاندان کی یا کسی ملک کی دولت وہ پیداوار ہے جو ایک سال کے اندر ہوتی ہے اگر کسی ملک کے باشندے اپنے اوقات کار میں سے بیس فیصدی ضائع کر دیتے ہیں، بریکار بیٹھے گپیں ہانکتے رہتے ہیں، سینما میں چلے جاتے ہیں اور دوسری قسم کے شوز (Shows) دیکھنے لگ جاتے ہیں اور اپنے اصل کام کی طرف کما حقہ توجہ نہیں دیتے تو اس ملک کی پیداوار سو کی بجائے اتنی رہ جاتی ہے۔اس پر اگر وہ شور مچائیں کہ ہماری ساری ضرورتیں پوری کرو تو ظاہر ہے کہ جب انہوں نے وہ چیز پوری پیدا ہی نہیں کی تو کس طرح سب کی ضرورتیں پوری اور سب کے حقوق ادا ہو سکتے ہیں۔اگر ایک طالب علم روزانہ بارہ گھنٹے کی بجائے یا دس گھنٹے پڑھنے کی بجائے صرف تین گھنٹے پڑھائی کرے اور باقی وقت ضائع کر دے اگر فرض کریں ہمارے کالجوں میں ایک لاکھ طالب علم ہوں تو اس طرح نکتے پن کی وجہ سے روزانہ تعلیم کے نو لاکھ گھنٹے ضائع ہوئے یعنی انہوں نے اپنی پڑھائی کے اوقات میں سے ۷۵ فیصدی حصہ سکتے پن کی وجہ سے ضائع کر دیا۔پس ایک ایسی قوم جس کے طالب علم اتنے کاہل ہوں وہ ایک ایسی قوم سے جس کے بچے اپنے اوقات میں سے بمشکل ایک فیصدی وقت ضائع کرتے ہوں ( کوئی نہ کوئی استثنا تو ہر جگہ ہوتا ہے ) دنیوی اعتبار سے کیسے مقابلہ کر سکتی ہے۔آکسفورڈ میں جو طالب علم کلاس کی پڑھائی کے علاوہ دس بارہ گھنٹے روزانہ پڑھتا تھا وہ پڑھائی میں بڑا اچھا طالب علم سمجھا جاتا تھا اور جو طالب علم روزانہ اوسطاً سات آٹھ گھنٹے پڑھتا تھا اس کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ درمیانے درجے کا طالب علم ہے جبکہ چار پانچ گھنٹے روزانہ پڑھائی کی اوسط بتانے والے طالب علم کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ بڑا آوارہ ہے اس کو پڑھائی کی طرف توجہ نہیں لیکن ہمارے ملک میں روزانہ چار پانچ گھنٹے کی اوسط سے پڑھنے والا ٹاپ (Top) کے سکالرز (Scholars ) میں شمار ہوتا ہے۔پس اگر معیار میں یہ فرق ہو تو اس محنتی قوم کے ساتھ ہمارے بچے ان تمام اچھے ذہنوں کے باوجود جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کئے ہیں کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ سکتے پن کی عادت