خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 737
خطبات ناصر جلد دوم ۷۳۷ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ اگر کسی کا مال اس لئے خرچ ہوا ہے کہ اس طرح بعض لوگوں کے حقوق ادا ہو جائیں تو یہ ایک نیکی کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس طرح تم میری رضا کے وارث بن جاؤ گے لیکن اگر تمہارا خرچ اس وجہ سے نہیں اپنے مال کو تم اس مقصد اور اس غرض کے لئے خرچ نہیں کرتے بلکہ تم مال کو محض نمائش اور دکھاوے کے لئے خرچ کرتے ہو جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ میرے پاس بڑا مال ہے اور اس بات کو نظر انداز کر جاتے ہو کہ تمہارے پاس جو مال ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں کے حقوق قائم کئے ہیں اور تجھے وہ مال اس لئے دیا گیا ہے کہ تو دوسروں کے ان حقوق کو ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کا وارث بنے لیکن تو اس چیز کو بھول جاتا ہے اور بڑے فخر سے کہتا ہے کہ میں نے نمائش کے طور پر بے تحا شامال خرچ کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض بے وقوف اور بصارت اور بصیرت سے محروم شاید اس کے نتیجہ میں تیری تعریف بھی کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کی تعریفی نگاہ تجھ پر نہیں پڑ سکتی اور نہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے تجھ سے عزت واحترام کا سلوک کر سکتے ہیں۔اس آیت کے آگے جو آیات ہیں ان میں دو اصولی باتیں بیان کی گئی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کی ادائیگی دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک غلامی سے چھڑانے کے لئے اور دوسری غربت کو دور کرنے کے لئے۔ان ہر دو کا اس حق کی ادائیگی سے تعلق ہے۔غلامی سے صرف وہی غلامی مراد نہیں جو ایک وقت تک بڑی بھیانک شکل میں دنیا میں رائج رہی ہے اور اب بھی نیم ظاہری شکل میں غلاموں کی نسلیں امریکہ میں ہمیں نظر آتی ہیں۔غلامی کا طوق بظاہر ان کی گردن میں نہیں ہوتا لیکن دنیا کا کوئی عقلمند اور خدا ترس انسان ان کو آزاد بھی نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ مختلف قوانین میں مختلف روایات میں جکڑے ہوئے ہیں مختلف نفرتوں ، مختلف حقارتوں اور مختلف حق تلفیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ایک اور غلامی بھی ہے جو اگر چہ اس طرح کی غلامی تو نہیں لیکن وہ غلامی ضرور ہے کیونکہ ہر وہ شخص جو ایک ایسے ماحول میں پرورش پا رہا ہے کہ مال کے علاوہ جو اس کے دوسرے حقوق ہیں وہ اسے نہیں مل رہے وہ بھی تو غلام ہے وہ بھی جکڑا ہوا اور قید ہے، وہ آزاد نہیں ، کیونکہ وہ اس چیز میں