خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 733 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 733

خطبات ناصر جلد دوم ۷۳۳ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء یہ لالچ کارفرما ہوتا ہے کہ اس طرح محدود و معتین دائرہ میں قحط کے آثار پیدا ہوں گے اور وہ زیادہ قیمت پر مال کو بیچ کر فائدہ اٹھائے گا۔اس طرح حرص کے نتیجہ میں وہ دوسرے کو اس کے حق خرید سے محروم کر دیتا ہے۔اسلام نے اس سے سختی سے منع کیا ہے۔دوسرے اس حرص اور لالچ کے نتیجہ میں ہمیں اقتصادیات کے اندر ایک ظلم عظیم نظر آرہا ہے اور وہ سود ہے کیونکہ اس سود کے نتیجہ میں آج دنیا کی جو شکل عملاً ہمیں نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ انسانوں میں سے ایک چھوٹے سے گروہ کے پاس دنیا کے سونے اور چاندی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے۔شود سے اقتصادی غلامی پیدا ہوتی ہے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کے نظام کو جاری کیا ہے۔جس طرح شود بنی نوع انسان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کا ایک عظیم منصوبہ ہے اسی طرح نظام زکوۃ اس اقتصادی غلامی کی زنجیروں کو کاٹنے کا ایک عظیم حربہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے نفس کی اس آفت سے بھی انسان کو اسلام کے اقتصادی نظام کے ذریعہ بچایا ہے کیونکہ فرمایا ہے احتکار نہیں کرنا، عود نہیں لینا ، بلکہ اس کے مقابلہ میں زکوۃ کو ادا کرنا ہے تا کہ اس طرح لوگوں کے وہ حقوق ادا ہو جائیں جن کو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے ویسے زکوۃ کے Institution ( نظام ) کے نتیجہ میں ہر فرد واحد کے اقتصادی حقوق پورے طور پر ادا نہیں ہو سکتے۔تاہم بہت سے افراد کے اقتصادی حقوق ادا ہو جاتے ہیں اور جو حقوق ادا نہیں ہوتے ان کی ادائیگی کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دوسرے احکام دیئے ہیں۔نفس کی تیسری آفت حسد ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ تمنا اور خواہش رکھنا کہ وہ شخص جو کسی نعمت کا مستحق ہے اس سے وہ نعمت چھن جائے اور اس کے لئے کوشش بھی کرنا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی تفصیل سے یہ ہدایت دی ہے کہ حسد نہیں کرنا اور تاکیداً فرمایا ہے کہ جن لوگوں کے پاس میری نعمتوں سے تمہیں کچھ نظر آتا ہے اور میں نے ان کا یہ حق قائم کیا ہو کہ یہ نعمتیں ان کے پاس رہیں کیونکہ وہ ان کا استحقاق رکھتے ہیں تو ان کے متعلق تمہارے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا جو حق قائم کیا ہے اس سے وہ محروم ہو جائیں اور نہ ہی