خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 713 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 713

خطبات ناصر جلد دوم ۷۱۳ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء کے دباؤ تم پر پڑیں گے تم نے جرات سے ان کا مقابلہ کرنا ہے اور ہر حالت میں فَنَا فِي اخْلَاقِ الله کے مقام کے حصول کے لئے مجاہدہ کرنا ہے۔پس ہر چیز جو ہمیں نظر آتی ہے وہ خدا تعالیٰ کے کسی نہ کسی حکم کو پورا کرنے کے لئے پیدا کی گئی ہے حقوق کی ادائیگی کے لئے پیدا کی گئی ہے مثلاً یہ حکم ہے کہ تیرا ہمسایہ بھوکا نہ رہے۔ایک شخص کو زیادہ دیا ہے گھر میں جو دانہ ہے اس کا ایک حصہ وہ ہے کہ جس سے خدا کا حکم پورا کرنا ہے یا یہ حکم ہے کہ اپنے بچے کو اس کے ذہن کے مطابق تعلیم دلواؤ کئی ظالم ماں باپ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کی مالی حالت ایسی ہوتی ہے کہ اگر وہ تھوڑی سی قربانی کریں تو وہ بچے کو پڑھا سکتے ہیں لیکن وہ قربانی نہیں کرتے اور کہ دیتے ہیں کہ رات کو کلب جانے کا خرچ برداشت کریں یا بچے کو پڑھا ئیں وہ کہتے ہیں نہیں جی ہم کلب کا خرچ کریں گے بچہ بے شک پڑھے یا نہ پڑھے۔چنانچہ بعض ماں باپ میٹرک یا ایف اے یا بی اے، بی ایس سی کے بعد بچوں کی پڑھائی چھڑوا دیتے ہیں کہ اگر ایف ایس سی یا بی ایس سی کرے گا تو میڈیکل کالج میں جائے گا زیادہ خرچ ہوگا یا کہتے ہیں کہ ایم اے پر رک جا حالانکہ اس کا دماغ کہیں زیادہ ترقی کر سکتا تھا لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم آگے نہیں پڑھائیں گے کیونکہ ان کی عیش وعشرت کی زندگی پر یہ پڑھائی اثر انداز ہوتی ہے۔غرض ہر مخلوق ، ہر چیز جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے وہ اپنے کسی حکم کے پورا کرنے کے لئے ہے اس معنی میں کہا جاتا ہے کہ ہر دانے پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ کس کے پیٹ میں جانا ہے۔ہم مسلمان احمد یوں کو حقائق اشیاء کے علم کے حصول کے لئے گہری فکر کی عادت ڈالنی چاہیے یہ حض فلسفہ نہیں ہے ایک حقیقت ہے۔پس ہر چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے کسی نہ کسی حکم کی بجا آوری کے لئے پیدا کی ہے اور اس کا جو استعمال ادا ئیگی حق میں نہیں ہوتا وہ غلط استعمال ہے۔خدا کے غضب کا مورد بن جاتا ہے۔یہ کہنے والے کہ ہمارے مزدور زیادہ شراب پیتے ہیں زیادہ سینما دیکھ سکتے ہیں۔ایک دن میں کسی کے پاس تین تین دفعہ سینما دیکھنے کے پیسے ہوتے ہیں یاوہ عیاشی اور بدمعاشی اور بداخلاقی میں اپنا پیسہ دوسروں کی نسبت زیادہ خرچ کر سکتے ہیں یہ ہم سنتے چلے آئے ہیں اب وہی قو میں تباہی کے گڑھے پر کھڑی ہیں انہیں نظر آرہا ہے کہ وہ تباہ ہو گئے ہیں اور ہمارے جو چھوٹے بچے ہیں (خدا کرے