خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 712
خطبات ناصر جلد دوم ۷۱۲ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء اگر ہم اقتصادی مسائل کا اور دنیا نے ان کے جوصل پیش کئے ہیں۔حقوق اگر دیئے ہیں تو وہ اور اگر غصب کئے ہیں تو وہ اس لحاظ سے دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ساری دنیا میں ہمیں اس قدر بھیانک ظلم پھیلا ہوا نظر آتا ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔لیکن اس کے مقابلے میں جب بھی مسلم نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کی اور اس کی اطاعت کا جوڑا اپنی گردن پر رکھا۔اس نے ایک ایسا معاشرہ قائم کیا کہ غیر بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ان کو فائدہ مل رہا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں رب العلمین ہوں۔میں نے دنیا کو سمجھانے کے لئے ایک مثال بھی دی یعنی خدا تعالیٰ نے کہا میں ابو جہل کو کھانا دیتا ہوں پھر اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میرا بندہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میری صفات کا کامل رنگ اپنی صفات پر رکھتا ہے اچھا میں قحط پیدا کر دیتا ہوں پھر دیکھو جو بندہ میرے رنگ میں رنگین ہے وہ تمہیں کھانے کو دیتا ہے یا نہیں اگر وہ کھانے کو دیتا ہے تو ثابت ہوا کہ میں ہی تمہیں کھانے کو دے رہا تھا اگر وہ نہ دے تو پھر تمہارا اعتراض صحیح ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کھانے کو نہیں دے رہا تھا بلکہ بت دے رہے تھے ایک انتہائی سخت قحط پیدا کر دیا اور اس کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے گردنیں اکڑا کے چلنے والوں اور سارے عرب میں یہ اعلان کرنے والوں کی کہ ہم تلواروں سے اسلام کو نیست و نابود کر دیں گے گردنیں جھکا دیں۔انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا کہ ہم بھو کے مررہے ہیں کھانے کو دو۔اس وقت آپ کا عمل اللہ تعالیٰ کی صفات کا ایک جلوہ تھا اور وہ جلو ہ اس رنگ میں نظر آیا کہ آپ نے ان کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔اس سے ثابت ہوا کہ اصل حقیقت تو حید باری تعالیٰ ہے وہی کھانا دے رہا تھا لیکن بت پرست کہتے تھے کہ نہیں ہمارے بت دے رہے ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میری تو حید کو قائم کرنے والا ، میری صفات کے جلوے دکھانے والا اور میرے اخلاق کے رنگ میں دنیا کے اخلاق کی تربیت کرنے والا ہے اس کا ایک جلوہ تمہیں دکھا دیتے ہیں اور ہر عقلمند سمجھ جائے گا کہ جب ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کو مل رہا تھا تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل رہا تھا وہی رَبُّ الْعلمین ہے۔غرض اسلام نے اپنے اقتصادی نظام کی بنیا دسب سے پہلے ربوبیت عالمین پر رکھ کر ہر انسان کو ہر مخلوق کو اسلام کی تعلیم کے زیرا احسان کر دیا پھر حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنی ہے۔دنیا