خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 680
خطبات ناصر جلد دوم ۶۸۰ خطبہ جمعہ ۱۳ / جون ۱۹۶۹ء اس قابل ہو کہ وہ حقیقی معنی میں خادم دین بن سکے۔قربانیاں دے سکے اور اس روح سے کام کر سکے جو روح ایک واقف زندگی میں ہونی چاہیے ایسا شخص ہی جامعہ احمدیہ میں داخلہ کے لئے مطالبہ کر سکتا ہے اگر ہم ایسے طالب علم کی بجائے ایک ایسے طالب علم کو داخل کر لیتے ہیں جس کا دائر کا استعداد جامعہ احمدیہ کے نقطہ نگاہ سے ایسا نہیں کہ وہ جامعہ احمدیہ میں علم حاصل کر کے اسلام کا مبلغ بنے تو ہم کسی اور کی حق تلفی کر رہے ہیں کیونکہ اس کے لئے وہ روپیہ رب العلمین نے پیدا ہی نہیں کیا۔اس نے ہر ایک کے لئے اتنا ہی پیدا کیا ہے جتنی اس کو استعداد اور قوت ملی ہے ایسے مطالبات جو انسان کی قوتوں کی کامل نشو و نما میں روک بنیں رڈ کئے جائیں گے مثلاً قوت ابھرتی ہے اس سے کام لینے سے قوت اُبھرتی ہے آپس میں مقابلہ کروا کر اور اس کی مختلف صورتیں ہیں اور جد و جہد ، مقابلہ اور مجاہدہ (یعنی اس کے لئے کچھ کرنے ، قربانی دینے اور تکلیف اٹھانے) کے بغیر صحیح نشو ونما ہو نہیں سکتی۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ طلبہ کی طرف سے ناجائز رعایات کے مطالبے اسلام کا اقتصادی نظام نامنظور کر دے گا مگر اس کے ساتھ ہی ان کو سب جائز سہولتیں بھی مہیا کی جائیں گی۔یعنی ہر جائز چیز ، ہر جائز سہولت ان کو دی جائے گی۔ہر وہ انتظام کیا جائے گا جو ان کی نشو و نما میں مد ہو۔لیکن یہ مطالبہ کہ ہمیں مثلاً چالیس فیصد نمبروں پر سیکنڈ ڈویژن دی جائے یا اس قدر نمبروں پر ہمیں پاس کر دیا جائے بعض حالات میں نا جائز ہے۔جن قوموں نے دنیوی لحاظ سے ترقی کی ہے انہوں نے اپنے بعض امتحانات کے لئے ستر فیصد نمبر لینے والے کو بھی فیل قرار دیا ہے ابھی چند مہینے ہوئے ایک پاکستانی احمدی کا خط میرے پاس آیا جو انگلستان میں ایک کورس کے لئے گئے تھے انہوں نے لکھا کہ میں نے پہلے تین پرچوں کا امتحان دیا دو پر چوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے نوے فیصدی سے او پر نمبر ملے اور میں کامیاب ہو گیا۔لیکن ایک پرچہ میں مجھے صرف ستر فیصد نمبر ملے اور میں فیل ہو گیا ہوں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اگلے امتحان میں اس میں بھی کامیاب کر دے۔پس جو د نیوی لحاظ سے آگے بڑھنے والی قومیں ہیں انہوں نے دنیوی ترقیات کے لئے اس نقطہ کو سمجھا ہے۔لیکن اصولی طور پر حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ ناجائز رعایت جو حقیقی نشو نما میں روک بنتی ہے جرات کے ساتھ رڈ کر دینی چاہیے لیکن طالب علم کو