خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 675
خطبات ناصر جلد دوم ۶۷۵ خطبہ جمعہ ۶ / جون ۱۹۶۹ ء ہے دوسرا ہر نظام کوئی تانبا ہے، کوئی پیتل ہے، کوئی لوہا ہے، کوئی کچھ ہے اور کوئی کچھ۔اسلام کے اقتصادی نظام کے ساتھ اس کا مقابلہ ہی نہیں۔پس خالص اقتصادی نظام قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اب جیسا کہ میں نے بتایا ہے گیارہ تقاضوں میں سے عبادت کا پہلا تقاضا یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔اسلام کا اقتصادی نظام ہی ایک خالص نظام ہے جس کے نتیجہ میں توحید خالص قائم ہوتی ہے۔اسلام کا اقتصادی نظام اللہ تعالیٰ کی صفات میں غیر اللہ کی شرکت کے تصور سے منزہ ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات کے جو تقاضے انسان پر عائد ہوتے ہیں مثلاً کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ۔اسلام کا اقتصادی نظام ان تقاضوں کو پورا کرنے والا ہے اور صفات باری تعالیٰ کی بنیادوں پر جو اقتصادی نظام قائم کیا جائے اس کا مقابلہ وہ نظام نہیں کر سکتے جن کے قائم کرنے میں معرفتِ الہی اور عرفان صفات باری کا کوئی تعلق نہ ہو اور انسان کی اپنی عقل اور اپنی سمجھ بوجھ پر جن کا انحصار ہو۔(روز نامه الفضل ربوه ۲۳ / جولائی ۱۹۶۹ ء صفحہ ۲ تا ۶ )