خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 657
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۶۹ء کی نگاہ سے دیکھیں لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا بلکہ اس چیز سے ہم منع کرتے ہیں۔جیسا کہ فرما یا لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمُ (الحجرات : ۱۲) یہ تفاوت ہم نے اس لئے رکھا ہے کہ بعض بعض کے لئے کار بر آر اور خادم بن جائیں۔کسی کو ایک خاص قسم کی قوت اور استعداد دینا اور دوسرے کو وہ قوت اور استعداد نہ دینا بلکہ اس کی بجائے کوئی اور قوت اور استعداد دینا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اللہ تعالیٰ بعض کو معزز اور بعض کو حقیر بنانا چاہتا ہے بلکہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس نے انسان کو باہمی معاشرہ میں تمدنی زندگی گزارنے والی مخلوق بنایا۔اس کی راہ میں آسانی پیدا کرنے کے لئے اور ہر ایک کو دوسرے کا خادم بنانے کے لئے اس نے یہ انتظام کیا کہ اس نے مختلف قوتوں اور مختلف استعدادوں کے ساتھ اس کو پیدا کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صرف ایک پر ہی سارا بوجھ نہیں پڑتا۔آپ کو بھی عادت پڑ گئی ہے اور مجھے بھی یہ عادت ہوگئی ہے کہ ہم سوچتے ہی نہیں کہ فرد واحد کو تو چھوڑ و اگر ایک خاندان کو بھی اپنے سارے کام خود کر نے پڑتے تو دنیا ایک عذاب بن جاتی۔اس خاندان کے افراد مثلاً خود روئی اُگاتے ، خود چنائی کرتے خود ہی کا تتے اور خود ہی اس کا کپڑا بناتے تا وہ اپنا ننگ ڈھانک سکیں۔پھر دوسری مختلف اجناس ہیں وہ اجناس بھی وہ خود اُگاتے۔مثلاً وہ خود گندم اُگاتے پھر اس کے لئے محنت کرتے پھر خود ہی اس کو کاٹتے۔خود ہی گہائی کرتے ، خود ہی اُڑاتے اور پھر خود ہی گھر میں دانے لاتے ، انہیں صاف کرتے پھر ان کو خود ہی چگی سے پیتے ، پھر آٹا کو گوندھتے اور اس سے روٹی بناتے۔اس طرح کی ہماری سینکڑوں ضرورتیں ہیں کچھ تو ان میں سے جائز ضرورتیں ہیں اور کچھ ہمیں عادتیں پڑی ہوئی ہیں اور وہ عادتیں ہمارے لئے ضرورت کی شکل اختیار کر جاتی ہیں۔سینکڑوں کام ہیں جو دوسرے لوگ ہمارے لئے کر رہے ہیں۔کپڑے کی ضروریات ہیں۔مثلاً پگڑی کے لئے ململ چاہیے کھدر کی پگڑی پہنیں تو میرے جیسے آدمی کو سارا دن سر درد ہی ہوتی رہے۔بہت کم لوگ اس کے وزن کو برداشت کر سکیں۔پھر عورت کا اپنا مزاج ہے اور مرد کا اپنا مزاج ہے۔پھر رنگ ہیں گھر کی ایک لڑکی ایک رنگ کو پسند کرتی ہے دوسری لڑکی دوسرے رنگ کو پسند کرتی ہے۔غرض ہزار قسم کے کام ہیں۔اگر کسی خاندان کے افراد کو وہ سب کام خود ہی کرنے پڑتے تو یہ دنیا انسان کے لئے جہنم بن جاتی۔