خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 655 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 655

خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۶۹ء ہے یہ کسی انسان اور خصوصاً اس زمانہ کے انسان کا حق نہیں تھا جو گمراہی اور ضلالت اور فساد میں اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا خدا تعالیٰ کی رحمت بندہ کے ظلم اور فساد کو دیکھ کر جوش میں آئی اور اس نے یہ جلوہ دکھایا جو حسین تر اور اعلی تر اور ارفع تر تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کام کے لئے منتخب کیا اور اپنے حسن کا پورا جلوہ آپ پر چڑھا دیا اور اپنے احسان کی پوری قوت اپنی ظلیت میں آپ کے اندر ودیعت کر دی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف ایک کامل انسان اور ایک محسن اعظم کی حیثیت میں مبعوث کیا۔رحمت کا یہ جلوہ اتنا عظیم تھا کہ ایسا جلوہ انسان نے نہ کبھی دیکھا اور نہ دیکھے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنی رحمت کا ایک عظیم جلوہ تم پر ظاہر کیا اور تم یہ اعتراض کرتے ہو کہ رحمت کا یہ جلوہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے جو تمہاری نگاہ میں کوئی وقعت نہیں رکھتا کیوں ظاہر ہوا ہے۔کسی بڑے رئیس کے ذریعہ سے کیوں ظاہر نہیں ہوا۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اصولی صداقت بیان کی کہ اَهُم يَقْسِبُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ كيا قسامِ ازل کی کیا رحمتوں کی تقسیم وہ کر سکتے ہیں۔وہ ایسا نہیں کر سکتے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک انسان اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو آگے تقسیم کرے۔یہ انسان کے اختیار میں نہیں۔کیا وہ دیکھتے نہیں کہ روحانی دنیا کے ساتھ تعلق رکھنے والی رحمتیں جو ہیں وہ تو ایک طرف رہیں وہ رحمتیں جن کا تعلق اس دنیوی زندگی کی معیشت کے سامانوں کے ساتھ ہے ان کی تقسیم بھی وہ نہیں کر سکتے۔وہ تقسیم بھی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے اور جس رنگ میں اس نے ان کو تقسیم کیا ہے ایک معمولی عقل والے انسان کو بھی نظر آتا ہے کہ وہ مجموعی طور پر انسان کے اختیار سے باہر ہے۔اور وہ تقسیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔دنیوی معیشت اور دنیوی زندگی کے سامانوں کی تقسیم ہم نے اس رنگ میں کی ہے کہ ہم نے ہر انسان کی قوت اور استعداد مختلف بنادی ہے۔ہر طبیعت کا میلان ہم نے مختلف بنادیا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو بوجھ اٹھانے کی طاقت عطا کی ہے۔قادیان میں ایک سکھ مزدور تھا وہ بہت زیادہ بوجھ اٹھانے کی اہلیت رکھتا تھا وہ اتنی طاقت رکھتا تھا کہ پانچ چھ من بوجھ اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا تھا اور دوسروں سے دوگنی تگنی مزدوری لیا کرتا تھا۔اب اسے یہ طاقت ملا وامل یا