خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 642
خطبات ناصر جلد دوم ۶۴۲ خطبہ جمعہ ۶ ارمئی ۱۹۶۹ء اللہ توفیق دے گا تو صدرانجمن احمد یہ اس ظاہری جسم کو جو فضل عمر فاؤنڈیشن کی طرف سے تیار ہوگا۔کتابوں ، علوم کے خزانوں اور ان علوم کے خزانوں سے فائدہ اُٹھانے والوں سے بھر دے گی، پھر اس میں روح بھی آجائے گی اور اس کا اچھا نتیجہ نکلے گا۔پھر تحقیقی مضامین لکھوانا ہے اور ان کی اشاعت کا انتظام کرنا ہے۔مجھے اس وقت ان کاموں کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں جس چیز کو میں اس وقت خاص طور پر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تین سال بس گزرا ہی چاہتے ہیں۔۳۰/ جون کو وصولیوں کے کھاتے بند کر دیئے جائیں اور سوائے استثنائی حالات کے کسی کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ کوئی رقم اس فنڈ میں دے کیونکہ اصل چیز روپیہ نہیں ، اصل چیز لائبریری کی عمارت نہیں جو اینٹوں، سیمنٹ اور لوہے سے تیار کی جائے گی۔وہ تو کوئی ایسی یاد گار نہیں اصل یادگار یہ ہے کہ اس روح کو زندہ رکھا جائے جو روح ہمیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زندگی میں نظر آتی تھی۔ہمیں آپ کی زندگی میں یہ روح نظر آتی تھی کہ آپ نے اپنے دن رات اللہ کے نام کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان احسانات کی اشاعت کے لئے گزارے جو آپ نے بنی نوع انسان پر کئے۔آپ کا ہر لمحہ خدا اور اس کے رسول کے لئے وقف تھا۔اگر ہمیں آپ سے محبت ہے، اگر ہمیں آپ سے پیار کا تعلق ہے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے نفس میں اور اپنی نسل میں یہ یاد گار قائم کرے گا کہ ہمارے اوقات بھی خدا کی عظمت کو قائم کرنے کے جذبات سے معمور ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور احترام کے قیام کے لئے بھی ہمہ وقت کوشش اور جد و جہد سے بھرے ہوئے ہوں۔ایک مومن کی اصل نشانی تو یہی ہے لیکن چونکہ یہ مادی اور ظاہری اسباب کی دنیا ہے اس میں ظاہری سامان بھی استعمال کئے جاتے ہیں اس لئے بعض ظاہری علامات کے طور پر ہم نے بعض کام کرنے کا پروگرام بنایا ہے اور اس کے لئے ہم نے بہت سے وعدے اور عطا یا لکھوائے ہیں۔ان کی ادائیگی ۳۰/ جون سے پہلے ہو جانی چاہیے اب صرف قریباً ڈیڑھ ماہ باقی رہ گیا ہے۔جن دوستوں نے ابھی تک اپنے وعدوں کی رقوم کو ادا نہیں کیا وہ اس طرف متوجہ ہوں کیونکہ ۳۰/ جون کو جیسا کہ میں نے بتایا ہے سوائے استثنائی حالات کے وصولیوں کے کھاتے بند کر دیئے جائیں گے اور استثنائی حالات جیسا کہ آپ جانتے ہیں سو دوسویا۔