خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 597 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 597

خطبات ناصر جلد دوم ۵۹۷ خطبہ جمعہ ۱/۲۵ پریل ۱۹۶۹ء خلاف غلط محاسبہ ہوتا ہے۔قرآن کریم نے جب یہ کہا کہ کسی کو سزا یا معانی دینے کا فیصلہ اس کی اصلاح کو مد نظر رکھ کر کرنا ہے تو ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ پہلے اس کی طبیعت سے واقفیت حاصل کرو کہ اگر تمہیں پتہ ہی نہیں کہ وہ شخص کس طبیعت اور مزاج کا ہے تو تمہیں یہ کیسے پتہ لگے گا کہ معافی سے اس کی اصلاح ہو سکتی ہے یا سزا دینے سے اصلاح ہو سکتی ہے اور یہ حکم بھی دراصل اسی محاسبہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کہ صحیح علم کے بغیر وہ محاسبہ نہیں ہو سکتا جس کا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ کا قرآنی فقرہ ہم سے تقاضا کرتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عبادت کے لئے تم پیدا ہوئے ہو اور یہ تمہیں کرنی چاہیے لیکن اگر تم حقیقی اور سچی عبادت کرنا چاہتے ہو تو تمہیں میرے لئے دین کو خالص کرنا ہوگا اور میری رضا کے لئے محاسبہ کے میدان میں ہر قدم اُٹھانا پڑے گا۔تمہارا جو قدم میری رضا کے لئے نہیں ہوگا وہ ہلاکت کی طرف، وہ دوزخ کی طرف، میری ناراضگی کی طرف لے جانے والا ہو گا۔اس کے لئے محاسبہ کے میدان میں سزا یا معافی دیتے وقت اس شخص کا اس کے ماحول کا صحیح علم رکھنا بڑا ضروری ہے۔دنیا میں بڑے فسادات اسی وجہ سے آج پیدا ہور ہے ہیں۔اٹلی میں اور بعض دوسرے ممالک میں طالب علموں نے ہنگامے کئے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کی رُو سے ان طلباء کے جو راعی ہیں اور جو ان کی تعلیم ، اخلاق اور تربیت کے ذمہ دار ہیں وہ علم کے بغیر قدم اُٹھاتے ہیں اور مشفقانہ اصلاح کی بجائے غلط طریق پر غصہ نکالتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ ان کو عقل سے، پیار سے سمجھا ئیں۔اگر چہ یہ صحیح ہے کہ بعض لوگ پھر بھی شیطان کی گود میں بیٹھنا ہی پسند کریں گے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ انسانی فطرت بنیادی طور پر شریف واقع ہوئی ہے لیکن آج کا انسان انسانیت سے بھی دور جا چکا ہے مذہب تو بعد کی بات ہے پہلے تو ایسے لوگوں کو ہم نے انسان بنانا ہے پھر اس کے بعد خدا اور رسول کی باتیں ان کو سنائی جائیں گی۔جو شخص فطرت کے مسخ ہو جانے کے نتیجہ میں انسان کی بجائے گدھے اور بھیڑیے کے اخلاق اپنے اندر رکھتا ہے اس کی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کو انسان بنایا جائے ، پھر انسان سے روحانی انسان ، خدا رسیدہ انسان، اللہ کا پیارا اور محبوب انسان بنایا جاسکتا ہے لیکن جو اپنے اخلاق و اطوار میں انسان ہی نہیں مذہب اس کے لئے کیا کر سکتا ہے اور مذہب کا محسن یعنی اسلام کا