خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 569 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 569

خطبات ناصر جلد دوم ۵۶۹ خطبہ جمعہ ۱۱ را پریل ۱۹۶۹ ء پڑھتا رہا اور کسی موقع پر بھی ہم نے اس کو یہ نہیں سمجھایا یا اسے سمجھانے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ دعا میں ہی انسان کی ساری زندگی ہے اور اگر انسان ہر وقت دعا اور ذکر الہی میں مشغول رہے تبھی وہ دینی و دنیوی نعمتوں کا وارث بنتا ہے چونکہ ہم نے اس کی اس رنگ میں تربیت نہیں کی اس لئے جس وقت وہ بالغ ہوتا ہے اور اس دباؤ سے آزاد ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو مسجد سے بھی آزاد سمجھ لیتا ہے پھر وہ نماز کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا۔ماں باپ کہتے ہیں کہ ہم بڑے بدقسمت ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اس بدقسمتی کا چشمہ تو تمہاری اپنی غلط تربیت سے پھوٹا اور تم نے یہ سمجھ لیا کہ صرف دباؤ ڈالنا ہی کافی ہے اور یہ نہیں سمجھا کہ دباؤ ڈالنے سے تمہارا مقصد یہ تھا کہ ایک نیم شعوری سی عادت پڑ جائے اور تمہیں ایک موقع دیا گیا تھا کہ تم اپنے بچے کی صحیح رنگ میں تربیت کر کے صحیح شوق پیدا کرو گے کہ وہ نماز میں ادا کر نے لگ جائے لیکن تم نے وہ موقع ہاتھ سے کھو دیا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ ہی کے لئے اطاعت کو اور فرمانبرداری کو خالص رکھنا۔کسی قسم کے دباؤ کے نتیجہ میں اس کی اطاعت اور فرمانبرداری نہیں کرنی کیونکہ اس صورت میں تو وہ غیر تمہیں اگر اس کی طاقت ہو اس فرمانبرداری کی جزا دے گا جس کے ڈر سے یا جس کو خوش کرنے کے لئے تم نے ظاہرۃ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی لیکن اس وجود میں یہ طاقت نہیں تمہارا فعل بے نتیجہ نکلے گا اور تمہیں کوئی اچھا بدلہ نہیں ملے گا۔اس سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے جیسا کہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے کہ بہت سی غیر اللہ کی اطاعتیں ہمیں ایسی بھی نظر آتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔مثلاً خدا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرو گے تو میرے محبوب بنو گے آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کرو گے تو میرے محبوب بنو گے۔آپ کے اُسوہ کو اپنی زندگیوں میں قائم کرو گے آپ کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ گے تو میرے محبوب بنو گے ایسی اطاعتیں جو بظاہر ایک اور رنگ رکھتی ہیں وہ بھی دینی جامہ پہن لیں گی اگر تم اس اطاعت کو اس لئے کرو کہ اللہ کہتا ہے اطاعت کی جائے اور جہاں اللہ نہ کہتا ہو وہاں اطاعت نہ کرو مثلاً خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ماں باپ کی اطاعت کرنی ہے ان کا ادب و احترام کرنا ہے۔یہ خدا کا حکم ہے لیکن جو شخص خدا کے حکم