خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 565
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۱۱/را پریل ۱۹۶۹ء انسان کی پیدائش کی اصل غرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور صرف اس کا بندہ بنے خطبه جمعه فرموده ۱۱ را پریل ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے یہ قرآنی آیات پڑھیں۔وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ - وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ - (الثريت : ۵۷،۵۶) وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزكوة وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ (البينة : ٦ ) اس کے بعد فرمایا :۔سورہ ذاریات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر چہ نصیحت اور یاد دہانی سے وہی لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے قبول کرنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا کی لیکن پھر بھی تم تمام بنی نوع انسان کو نصیحت کرتے چلے جاؤ۔انہیں یہ بات سمجھاتے چلے جاؤ کہ انسان کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اور انسان صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ بنے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کا کیا مفہوم ہے؟ یعنی یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ چونکہ پیدائش انسانی کا مقصد