خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 562 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 562

خطبات ناصر جلد دوم ۵۶۲ خطبہ جمعہ ۴ را پریل ۱۹۶۹ء فکر نہیں جتنی اس بات کی فکر ہے کہ آپ ان ذمہ داریوں کو ادا کریں جو تعلیم القرآن کے سلسلہ میں آپ پر عائد ہوتی ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم کے سلسلہ میں آپ پر دوذ مہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ایک ذمہ داری تو خود قرآن کریم سیکھنے کی ہے اور ایک ذمہ داری ان لوگوں ( مردوں اور عورتوں) کو قرآن کریم سکھانے کی آپ پر عائد ہوتی ہے کہ جن کے آپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق راعی بنائے گئے ہیں۔آپ ان دونوں ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جلد تر ان کی طرف متوجہ ہوں ہر رکن انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کی ذمہ داری اُٹھائے کہ اس کے گھر میں اس کی بیوی اور بچے یا اور ایسے احمدی کہ جن کا خدا کی نگاہ میں وہ راعی ہے قرآن کریم پڑھتے ہیں اور قرآن کریم کے سیکھنے کا وہ حق ادا کرتے ہیں جو حق ادا ہونا چاہیے اور انصار اللہ کی تنظیم کا یہ فرض ہے کہ وہ انصار اللہ مرکزیہ کو اس بات کی اطلاع دے اور ہر مہینہ اطلاع دیتی رہے کہ انصار اللہ نے اپنی ذمہ داری کو کس حد تک نبھایا ہے اور اس کے کیا نتائج نکلے ہیں۔خدام الاحمدیہ کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آئندہ اشاعت اسلام کا بڑا بو جھ آپ کے کندھوں پر پڑنے والا ہے کوئی ایک طفل یا کوئی ایک نوجوان بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو احمدیت کے مقصد سے غافل رہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی سے غافل رہے جو ہمارے رب نے ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالا ہے گو ہر عمر میں انسان کے ساتھ موت لگی ہوئی ہے لیکن عام حالات میں ایک ساٹھ سالہ ادھیڑ عمر کے انسان کی طبعی عمر اس نوجوان کی عمر سے کم ہوتی ہے جو ابھی سولہ یا سترہ سال کا ہے آپ اپنے روحانی بنک یا خزانہ (اگر یہ لفظ اس جگہ کے لئے استعمال ہو جہاں خزانہ رکھا جاتا ہے ) کو اگر آپ چاہیں تو بہت زیادہ بھر سکتے ہیں لمبی عمر ہے جس شخص نے کئی فصلیں کاٹنی ہوں اس کے گھر میں دانے بہت زیادہ ہوں گے اگر وہ دانے جمع کرے اور اگر دانے بیچے تو مال زیادہ ہو گا لیکن جس شخص نے ایک ہی فصل کاٹنی ہو یا دو فصلیں کاٹنی ہوں تو اگر اس کا پیٹ بھر جائے تو وہ راضی ہو جاتا ہے لیکن اس دنیا میں تو پیٹ بھر جاتا ہے مگر اُخروی زندگی کی جو نعماء ہیں ان کے متعلق کوئی شخص یہ سوچ نہیں سکتا کہ بے شک وہ نعماء ہمیں تھوڑی مقدار میں مل جائیں زیادہ کے ہم امید وار نہیں ان نعمتوں کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کے مطابق کوشش ہونی