خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 526
خطبات ناصر جلد دوم ۵۲۶ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء کیونکہ قرب کے بغیر اس قسم کا علم تصور میں نہیں آسکتا۔اس قُرب کو ہم قرب خالقیت و قیومیت اور ربوبیت بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ کسی چیز کے سب سے قریب وہی ہستی ہوتی ہے جو اسے بنائے اور پیدا کرے۔پس جس ہستی کے دست قدرت سے مخلوق معرض وجود میں آئی اور جس نے اپنی مخلوق میں سے ہر ایک کو وہ خواص عطا کئے جو اس نے عطا کئے۔وہی اس مخلوق کو اور اس کے خواص کو بہترین طور پر جانتی ہے اور اس کے قریب تر ہے۔جس نے پیدا کیا وہی اپنی پیدا کی ہوئی چیز کو جانتا ہے۔یہ بات کہ کسی غیر کو اس خالق کی مخلوق کے متعلق پورا علم ہو یہ ہو ہی نہیں سکتی۔یہ ایک حقیقت ہے جس سے دنیا کا کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا۔انسان نے سائنس کے ذریعہ بہت سے علوم حاصل کئے ہیں اور سب عظمند سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ ابھی وہ علوم کے سمندر کے کنارے پر کھڑے ہیں۔غرض پیدا کرنے والے نے جو خواص کسی چیز میں رکھے ہیں اس کا کچھ علم انسان اس پیدا کرنے والے کی دی ہوئی طاقتوں سے حاصل کر لیتا ہے لیکن اس کا حقیقی علم ، اس کے متعلق پوری اطلاع اور اس کے خواص کی حقیقت کو وہ نہیں پاسکتا۔غرض خلق یعنی پیدائش کا ایک قرب ہے ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کے دست قدرت سے نکلی ہے اور یہ ایک قُرب ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کر کے اسے یونہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ ہر حیات، ہر چیز اور اس کے خواص کی بقا اسی کے سہارے کی محتاج ہے۔اللہ تعالیٰ کا دست قدرت ہر آن اور ہر وقت ہر شے کے خواص کو سہارا دیئے ہوئے ہے اور اسی کی وجہ سے وہ قائم ہے جب یہ قرب بعد میں بدل جائے اور اس کا سہارا نہ رہے یعنی جس چیز سے وہ اپنے سہارے کو کھینچ لے اس پر فنا آجاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے صرف خلق ہی نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو بعض صفات اور خواص ہی عطا نہیں کئے بلکہ اس نے قانون ارتقا بھی جاری کیا اور ہر ایک کو اپنے سہارے کے ذریعہ اس کے کمال تک پہنچانا چاہا ہے غرض خلق کی وجہ سے اور قیومیت کے نتیجہ میں ہر آن ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سہارے کی محتاج ہے اور اس کی ربوبیت کے بغیر کوئی شے ترقی نہیں کر سکتی اور اپنے دائرہ کے اندر کمال کو نہیں پہنچ سکتی۔یہ تین صفات ( خالقیت ، قیومیت اور ربوبیت ) جلوہ گر ہو کر قرب عام کا نظارہ پیش کرتی ہیں۔ہر چیز بوجہ مخلوق ہونے کے اور