خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 519 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 519

خطبات ناصر جلد دوم ۵۱۹ خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۶۹ء خاص قسم کی طاقتوں والے اعضا دیئے گئے ہیں اور جس مقصد کے حصول لئے تمہیں اخلاقی اور روحانی قوتیں، طاقتیں اور استعداد میں عطا کی گئی ہیں۔اس مقصد یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول، اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول اور مقام عبودیت پر قائم ہونے کا ایک وسیلہ خدا تعالیٰ نے استقامت بتایا ہے یعنی ایک دفعہ اس کے ہو گئے تو پھر عمر بھر کے لئے اسی کے ہو گئے۔پھر دنیا کی کوئی طاقت ، دنیا کی کوئی مخالفت، دنیا کی کوئی ایذا رسانی ، دنیا کا کوئی دکھ اور دنیا کی کوئی شے بھی اس تعلق کو قطع کرنے میں کامیاب نہ ہو۔استقامت کے یہی معنی ہیں اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے جو میں نے شروع میں پڑھی تھی یعنی خالی زبان سے یا نیم معرفت سے توحید باری، ذات باری اور صفات باری کی معرفت حاصل نہیں کرنی بلکہ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ تم نے یہ معرفت ایسے اعمال کے ساتھ حاصل کرنی ہے جو صحیح بھی ہوں اور درجہ بدرجہ اس کی طرف لے جانے والے بھی ہوں۔انسان پختگی کے ساتھ اس پر کھڑا ہو جائے اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ تم اسے اپنی طاقت سے حاصل نہیں کر سکتے اس لئے تم خدا تعالیٰ کی مغفرت چاہوتا اسے حاصل کر سکو۔قرآن کریم نے اس مقصد کے حصول کے لئے کہ جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے بہت سے وسائل ہمیں بتائے ہیں۔بالفاظ دیگر اس نے انسان کو بہت سے وسائل بتائے ہیں کہ جن کے ذریعہ اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا عرفان حاصل ہو۔وہ علی وجہ البصیرت یہ یقین کرے کہ اللہ واقع میں موجود ہے، دہریت کا ذرہ بھی اس کے اندر باقی نہ رہے اور وہ اس یقین پر قائم ہو کہ خدا واحد ہے اور شرک کا کوئی پہلو اس کی فطرت کے اندر باقی نہ رہے اور وہ یہ یقین کرے کہ اللہ وہ ذات ہے جو تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے اور اللہ وہ ذات ہے جس کے اندر کسی کمزوری اور نقص اور ناپاکی کا تصور بھی نہیں ہوسکتا یعنی جس معنی میں اسلام اور قرآن کریم نے اللہ کو پیش کیا ہے اس اللہ کی معرفت اسے حاصل ہو جائے اور اس کی عظمت اور جلال کے نتیجہ میں انسان عبد بننے کی طرف مائل ہو، عبد بننے کی کوشش کرے اور پھر قرآن کریم کی بتائی ہوئی راہوں کو اختیار کر کے عبد بن جائے اور اس مجاہدہ کے نتیجہ میں جو اسلام نے بتایا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حسن اور اس کے احسان کے جلوؤں کو اپنی زندگی میں پائے اللہ تعالیٰ کی محبت اسے حاصل ہو اور وہ اس کا عاشق