خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 481 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 481

خطبات ناصر جلد دوم ۴۸۱ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۶۹ء کی محبت نہیں۔اطاعت قرآن نہیں۔اتباع اسوۂ نبوی نہیں۔ان کے دلوں میں کوئی بھی پاکیزگی اور طہارت نہیں۔اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ کی نعرہ بازی سے تو کچھ نہیں بنتا۔خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ پاک دل اور مطہر نہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی دلی ناپاکی کو ظاہر اور آشکار کرنا چاہتا ہے اس لئے ان کو اجازت دی ہے کہ اس قسم کی حرکتیں کرو اس لئے اجازت نہیں دی کہ وہ اسلام کو یا مسلمانوں کو یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے کیونکہ نقصان کا تو کوئی امکان ہی نہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو کسی کمزوری کا امکان نہیں کسی نقصان کا بھی امکان نہیں۔بعد میں آنے والوں کے لئے یہ وعدہ ہے کہ خلوص پیدا کرو۔اللہ تعالیٰ کا عشق پیدا کرو۔محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کر و قرآن کریم کی ہدایت کی اتباع کرو۔اُسوہ نبی کو اپنا ؤ اور وہی رنگ چڑھاؤ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا تو پھر تمہیں بھی کوئی خطرہ نہیں۔پھر اندرونی اور بیرونی دشمن جو چاہیں کرتے رہیں بے فکر ہو کر اپنے کام میں لگے رہو۔ایک طرف اللہ کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہو تو دوسری طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کرتے رہو۔کامیابی تمہارے نصیب میں ہی ہے۔غیر تمہارے اوپر کامیاب نہیں ہوسکتا۔اس آیہ کریمہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس طرح اس قسم کی ایک چھوٹی سی جماعت پائی جاتی تھی بعد میں آنے ولوں میں بھی اس قسم کی جماعت پائی جائے گی۔اس قسم کے لوگ ہوں گے جو ایمان کا دعوی کریں گے جو مصلح ہونے کا نعرہ لگا ئیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ يُسَارِعُونَ فِي الكفر فتنہ فساد اور فسق اور فجور کی باتیں سننے کی طرف دوڑیں گے اور ایسی باتوں کو پھیلائیں گے اور بداعمالیوں میں وہ زندگی کے دن گزار رہے ہوں گے۔جماعت مومنین میں بھی فتنہ و فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور ان کے مفسدانہ تعلقات بھی غیر مسلموں کے ساتھ ہوں گے، یہودی ہوں، عیسائی ہوں، آتش پرست ہوں، دہر یہ ہوں، بد مذہب ہوں جو بد نیتی کے ساتھ اور شرارت کے ساتھ مسلمانوں سے تعلق قائم کریں گے اور غلط باتیں ایسے لوگوں سے سن کے، جھوٹی باتیں ایسے لوگوں سے ٹن کے یہ کہہ کے پھیلائیں گے کہ