خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 469
خطبات ناصر جلد دوم ۴۶۹ خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۶۹ء حفاظت کرنے والے نہیں بلکہ وہ صحیح طور پر اور حقیقی معنی میں شریعت کی حفاظت کرتے ہیں جہاں تک ان کی زندگی کا تعلق ہے وہ شریعت پر عمل کر کے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے وہ معروف کا حکم دے کر اور منکر سے روکنے کے ساتھ شریعت کی حفاظت کرتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شریعت کی حفاظت وہی شخص کر سکتا ہے (مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبِ منیب ) جسے رحمان خدا اس کی کسی خوبی یا عمل کے نتیجہ میں نہیں بلکہ محض بخشش اور عطا کے طور پر ایک گداز اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کی عظمت کو پہچاننے والا دل عطا کرتا ہے اور خشیت کا یہ دعویٰ محض ایسا دعویٰ نہیں جو صرف لوگوں کے سامنے کیا جائے بلکہ مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ اس کی تنہائی کی گھڑیاں اور اس کا باطن اس کے ظاہر کو اور اس کے ان لمحات کو جو وہ اجتماعی طور پر گزارتا ہے جھٹلاتا نہیں۔مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ جس طرح اجتماع میں ، لوگوں سے میل ملاقات اور معاشرہ کی ضروریات پورا کرتے وقت وہ اپنے دل کی خشیت کو اپنے عمل سے ظاہر کرتا ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ تنہائی کی گھڑیوں میں اپنے رب کے حضور اس کی عظمت کا اقبال کرتے ہوئے اور اس کے جلال کا احساس رکھتے ہوئے وہ اس کی خشیت اپنے دل میں رکھتا اور اس کے مطابق اپنے رب کے حضور ا قاب بنتا ہے۔یہ وہ قلب ہے جسے قلب منیب کہا جاسکتا ہے اور یہ وہ قلب سلیم اور قلب منیب ہے جو ایک مربی کے دل میں دھڑکنا چاہیے۔اگر ایک مربی کے دل میں ایک قلب منیب نہیں دھڑکتا اگر اس کا دل تنہائی کے لمحات میں بھی خشیت اللہ سے بھرا ہوا اور لبریز نہیں اگر اس کا دل تنہائی کی گھڑیوں میں بھی اور میل ملاپ کے اوقات میں بھی اللہ تعالیٰ کی خشیت کے نتیجہ میں بنی نوع کی ہمدردی میں گداز نہیں تو پھر ایسا شخص جو اس قسم کا دل رکھتا ہو حفیظ نہیں یعنی شریعت کی حفاظت کرنے والا نہیں حالانکہ ہر مرتبی کا یہ دعویٰ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے (نہ اپنی کسی خوبی کے نتیجہ میں ) حفیظ ہوں۔میرے سپر دشریعت کی حفاظت ہے اور میں نے اپنی زندگی اس کام کے لئے وقف کر دی ہے لیکن اگر اس کا عمل ایسا نہیں اگر اس کے اندر ریا پائی جاتی ہے۔اگر اس کے اندر کبر پایا جاتا ہے۔اگر اس کے اندر خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی نہیں۔ان کے ساتھ پیار نہیں تعلق نہیں، اگر ان کی جسمانی