خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 465
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۶۹ء کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسانی عقل کو تیز کیا جائے اور ایک مربی کی ذمہ داری دو طرح سے عقل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ایک اس طرح کہ اس کی اپنی عقل اندھیروں میں بھنکتی نہ پھرے بلکہ روشنی میں چلنے والی ہو اور دوسرے اس طرح کہ اس نے خودا اپنی ذات ہی کو منور نہیں کرنا بلکہ اسلام کے نور کو غیر تک بھی پہنچانا ہے۔اس کے لئے بھی قرآن کریم نے بہت سے انوار ہماری عقل کو عطا کئے ہیں۔مثلاً قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ ہم نے اس کتاب میں آیات کو مختلف طریقوں سے اور پھیر پھیر کر بیان کیا ہے (صرفنا ) تا لوگ ہماری آیات کو سمجھیں۔اس میں ہمیں اور خصوصاً ایک مربی کو یہ بتایا گیا ہے کہ ہر انسان ہر دلیل کو سمجھنے کا اہل نہیں ہوتا۔اس کی اپنی انفرادیت ہے، اپنی ایک دنیا ہے، اس کے جذبات ہیں ، اس کی عقل ہے ، اس عقل کی تربیت ہے، اس کا علم ہے، اس کا ماحول ہے، اس کی عادتیں ہیں ، اس کا ورثہ ہے اور اس قسم کی بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو اس پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔بعض دلائل کو اس کی طبیعت قبول نہیں کرتی لیکن بعض دوسری دلیلوں کو اس کی طبیعت مان لیتی ہے اور ان سے متاثر ہوتی ہے۔غرض قرآن کریم نے جو دلائل کو پھیر پھیر کے بیان کیا ہے وہ اس لئے ہے کہ مربی کو ہر طبیعت کے مطابق دلیل مل جائے اور وہ اس سے فائدہ اُٹھائے گویا ایک مربی کا یہ فرض ہوا کہ اوّل وہ ہر طبیعت کے مطابق بات کر رہا ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کی طبیعت دیکھ کر اس سے بات کرنی چاہیے۔دوسرے یہ کہ وہ قرآن کریم کے اوپر عبور رکھتا ہو۔قرآن کریم نے مختلف طبائع کے لحاظ سے جو دلائل ایک مربی کے ہاتھ میں دیئے ہیں ان کو وہ جانتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ فلاں شخص کی طبیعت ایسی ہے اور اس طبیعت کے لئے فلاں دلیل زیادہ مؤثر اور زیادہ کارگر ہوسکتی ہے۔پس اگر کسی شخص نے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں حقیقی مرتبی بننا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم کی روشنی سے اپنے لئے نور فراست اور عقل کی روشنی حاصل کرے اور قرآن کریم سے انتہائی محبت کرنے ، وہ قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والا ہو۔قرآن کریم کو غور اور تدبر سے پڑھنے والا ہو۔قرآن کریم سیکھنے کے لئے دعائیں کرنے والا ہو اور قرآن کریم کو سکھانے کے لئے بھی دعائیں کرنے والا ہوتا کہ دنیا اپنی کم عقلی کی وجہ سے اور اپنی اس عقل کے نتیجہ میں جس میں