خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 441 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 441

خطبات ناصر جلد دوم ۴۴۱ خطبه جمعه ۲۰ دسمبر ۱۹۶۸ء عمارت ( جس میں پہلے ہائی سکول ہوتا تھا ) کے پاس تھی ایک طرف کی ساری سیڑھیاں جو اینٹوں کی بنی ہوئی تھیں توڑی گئیں اور دوسری سیڑھیاں بنائی گئیں رضا کار مزدوروں کا کام کرتے رہے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت جلسہ گاہ بڑی بنائی جا چکی تھی بس آخری شہتیری رکھی جارہی تھی تو ہمارے کانوں میں صبح کی اذان کے پہلے اللہ اکبر کی آواز آئی ( وہ آواز اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے ) صبح کی اذان کے وقت وہ کام ختم ہوا اور جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ جلسہ گاہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے سارے لوگ اس جلسہ گاہ میں سما گئے اور جتنی ضرورت تھی اس کے مطابق جلسہ گاہ بڑھ گئی۔میں اس وقت یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو تربیت ہمیں دی گئی تھی وہی تربیت سب احمدی نوجوانوں کوملنی چاہیے یہ خیال ان میں پیدا نہ ہو کہ جلسہ سالانہ کے دنوں میں ہم نے پانچ یا سات گھنٹے ڈیوٹی دینی ہے اور اس کے بعد ہم آزاد ہوں گے ان کی اس رنگ میں تربیت ہونی چاہیے یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ صبح سے لے کر رات دس بجے تک کام کریں گے اور جب ڈیوٹی ختم ہو اور پھر کوئی اور کام پڑ جائے تو ہم ساری رات کام کریں گے اور پھر اگلے دن بھی کام کریں گے آرام نہیں کریں گے۔دیکھو جلسہ سالانہ کے دنوں میں چند پیسے لے کر جو نانبائی ہمارے تنوروں پر روٹی لگانے کے لئے آتے ہیں ان کی تعداد کم ہوتی ہے اور تنور زیادہ ہوتے ہیں اور زیادہ نانبائیوں کی ضرورت ہوتی ہے چنانچہ ہر جلسہ پر درجنوں ایسے نانبائی آتے ہیں جو دونوں وقت روٹی لگاتے ہیں اور چونکہ اور نانبائی نہیں ہوتے اس لئے ہم (ہم سے مراد جماعت کا نظام یعنی افسر جلسہ سالانہ اور ان کا ماتحت عملہ ہے ) بعض دفعہ ان کو جاگنے کی دوائیں دیتے ہیں اور عام طور پر ایک اچھا نانبائی آپ کے لئے روٹی پکانے کے لئے ایک ہزار دفعہ آگ میں سر دیتا ہے اور ان میں سے بعض چار پانچ روپیہ کی خاطر جو انہیں مزید مل سکتے ہیں ایک ہزار دفعہ کی بجائے دو ہزار دفعہ اس آگ میں سر دیتا ہے تب وہ آپ کے لئے روٹی پکاتا ہے۔پھر کیا تم اپنے خدا کی جنت میں دو ہزار دفعہ سر دینے کے لئے تیار نہیں اگر تم اس کے لئے تیار نہیں تو بڑی بد قسمتی ہے میں اس وقت خصوصاً نو جوانوں اور ایسے چھوٹی عمر کے بچوں کو جن کی عمر بالکل چھوٹے بچوں اور نوجوانوں کے درمیان ہے یعنی اطفال الاحمدیہ