خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 439 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 439

خطبات ناصر جلد دوم ۴۳۹ خطبه جمعه ۲۰ دسمبر ۱۹۶۸ء رضا کار نے نہایت بشاشت کے ساتھ اور اصل حقیقت کا ذرہ بھر اظہار کئے بغیر اس کو کہا ہاں تم بیمار ہو میں تمہارے لئے چائے لے کر آیا ہوں اور اگر کوئی دوائی لینا چاہتے ہو تو لے آؤں اب یہ خدمت ایسی تو نہیں کہ ہم کہیں کہ ہمالیہ کی چوٹی سر کی لیکن کتنا پیار اور حسن تھا اس بچے کے اس فعل میں اس نے اپنے نفس پر اتنا ضبط رکھا اس لئے کہ اس کی یہ خواہش اور جذبہ تھا کہ میں نے مہمان کی خدمت کرنی ہے اگر یہ جذبہ نہ ہوتا تو اس کی ہلکی سی ہچکچاہٹ بھی اس مہمان کو شرمندہ کر دیتی اور اس نے کبھی چائے نہیں پینی تھی لیکن اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ اور کسی اظہار کے کہا ہاں! میں آپ کے لئے ہی لے کر آیا ہوں۔یہ نظارہ اس قسم کا حسین تھا کہ اس وقت بھی جبکہ میں آپ کو یہ بات سنا رہا ہوں وہ کمرہ ، اس کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا، اس لڑکے کی شکل وہ مہمان ، وہ رُخ جس طرح بیٹھے ہوئے تھے میرے سامنے ہیں اس نظارہ کو میرے ذہن نے محفوظ رکھا ہے اور میں جب بھی اس واقعہ کے متعلق سوچتا ہوں بڑا حظ اُٹھاتا ہوں۔پس یہ جذبہ ہے خدمت کا جس کا مطالبہ خدا اور اس کا رسول اور اس رسول کے عظیم روحانی فرزند آپ سے کر رہے ہیں۔جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کی خدمت کے لئے یہ جذ بہ ہم میں ہونا چاہیے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر تم باہر جاتے ہوا گر تم مسافر ہوتے ہو تو میں تمہارے حقوق کی حفاظت کرتا ہوں کیا تم میرے ان مہمانوں کی خدمت نہیں کرو گے جو جلسہ کے موقع پر یہاں آ رہے ہیں؟ اگر ہم جلسہ سالانہ کے موقع پر آنے والے مہمانوں کی خدمت نہیں کرتے تو یہ بڑی ناشکری کی بات ہوگی ، یہ انسانیت سے گری ہوئی بات ہوگی ، یہ شرافت سے گری ہوئی بات ہوگی ، یہ احمدیت کے مقام سے گری ہوئی بات ہوگی ، یہ اسلام کے مقام سے گری ہوئی بات ہو گی۔خدا تعالیٰ کی محبت کا دعوی کرنا اور پھر ایسی بات کرنا بڑی ذلیل بات ہے جو زبان خدا تعالیٰ کا نام لیتی ہے اس کو جو وقار اور عزت حاصل ہونی چاہیے یہ اس سے گری ہوئی بات ہے۔ہم نے بچپن کی عمر میں بھی یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری چند گھنٹے کی ڈیوٹیاں لگیں گی یعنی یہ کہا جائے گا کہ تم پانچ گھنٹے کام کرو اور باقی وقت تم آزاد ہو۔ہم صبح سویرے جاتے تھے اور رات کو