خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 384 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 384

خطبات ناصر جلد دوم ۳۸۴ خطبه جمعه ۸ / نومبر ۱۹۶۸ء کرنے والا اس کا بھی افسر ہوتا ہے اور وہ اس کی بات نہیں مانتا اس طرح وہ اپنے دوست سے کہہ دیتا ہے بڑا افسوس ہے کہ میرا افسر میری بات مانتا نہیں غرض وہ اپنی بات منوانے کی قدرت نہیں رکھتا اور یہ بڑا بھاری نقص ہے اور جو سہارا وقت پر کام نہ آئے اس کو انسان نے کیا کرنا ہے۔پانچواں نقص دنیوی سہاروں میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ وہ ابدی نہیں ہوتے یہ عطا غیر محدود نہیں ہوتی محدود ہوتی ہے اور انسان کی تو اپنی ساری ضرورتیں پوری ہوتیں ہیں اگر کسی کو پانچ دن کھانے کو مل جائے اور پھر پانچ دن کھانے کو نہ ملے تو دنیوی لحاظ سے وہ زندگی کوئی زندگی نہیں اگر چھ ماہ اس کی عزّت قائم رہے اور اس کے بعد وہ جتنی مرضی ہو خوشامد کر لے لیکن اگلا آدمی اس کی حفاظت کے لئے تیار نہ ہو اور اس طرح اگلے چھ ماہ اسے ذلت پہنچے تو پہلے چھ ماہ کی عزت کو اس نے کیا کرنا ہے۔چھٹا نقص دنیوی سہاروں میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ سہارا دینے والا حکمت کے پہلوؤں پر پوری نظر نہیں رکھتا اور نہ نظر رکھ سکتا ہے مثلاً ایک نوجوان نے ایف اے یا ایف ایس سی کا امتحان پاس کر لیا ہو اور کوئی شخص اسے یہ کہے کہ تم میڈیکل کالج میں داخلہ لے لو میں تمام اخراجات برداشت کروں گا لیکن اس نوجوان کا دماغ طب کی طرف جاتا ہی نہیں اس طرح گوا سے دنیا میں تعلیم کے لئے سہارا تو مل گیا لیکن وہ دو یا چار سال کالج میں ضائع کر کے اپنی تعلیم کو چھوڑ دیتا ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی اور کام کا نہیں رہتا مثلاً وہ کوئی دوسری پڑھائی کرنے تک اوور ایج (Over Age) ہو جاتا ہے غرض دنیوی سہاروں میں ہمیں حکمت کا ملہ نظر نہیں آتی۔ساتواں بنیادی نقص دنیا کے سہاروں میں یہ ہے کہ وہ ربوبیت تامہ نہیں کر سکتے مثلاً ماں باپ ہی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بچوں کے لئے بڑا سہارا بنایا ہے لیکن جہاں تک ربوبیت تامہ کا سوال ہے وہ نہیں کر سکتے بسا اوقات وہ بچوں کے اخلاق اور ان کی طبیعتوں کو خراب کر دیتے ہیں اور اس طرح ہمیشہ کے لئے اس دنیا میں ایک عذاب ان کے لئے پیدا کر دیتے ہیں پس گو ربوبیت کے ظلی نظارے ہمیں ہر خاندان میں نظر آتے ہیں لیکن ربوبیت تامہ کا نظارہ ہمیں کسی ایک خاندان میں بھی نظر نہیں آتا۔