خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 382
خطبات ناصر جلد دوم ۳۸۲ خطبه جمعه ۸ / نومبر ۱۹۶۸ء مطابق انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے لیکن ان اسباب پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ ہولیکن اگر اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل اور پورا بھروسہ ہو تو اس مادی دنیا کے اسباب وہ خود اپنے فضل سے پیدا کر دیتا ہے۔انبیاء علیہم السلام اور مقربین الہی کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہر وقت ان کی مدد کے لئے حاضر رہتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں اس دنیا میں مادی سامان کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جو فدائی اکٹھے ہوئے تھے وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے نتیجہ میں ہی اکٹھے ہوئے تھے اور اب اللہ تعالیٰ نے جو یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ وہ تمام دنیا میں اسلام کو غالب کرے گا اور اس مقصد کے حصول کے لئے اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم روحانی فرزند کو مبعوث کیا ہے آپ کی جماعت کی بنیاد بھی اللہ تعالیٰ کے تصرف اور اس کی وحی پر ہے جیسا کہ اس نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے الہام يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوحِي إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ - اور جن سامانوں کی ضرورت تھی ان کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ وہ سامان تجھے دیئے جائیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ تیری طرف ایسے حالات میں اور اتنے فاصلوں سے آئیں گے کہ انسانی عقل دنگ رہ جائے گی۔میں نے بتایا ہے کہ ایک بھروسہ اور توکل ایک جاہل انسان خدا تعالیٰ سے دور ہو کر حاصل کرتا ہے لیکن اس قسم کے دنیوی سامان میں یا دنیا میں بسنے والے ان عاجز انسانوں میں جن پر اعتماد کیا جاتا ہے اور جن کے سپر د انسان اپنے بعض کام کرتا ہے آٹھ قسم کی بنیادی خامیاں پائی جاتی ہیں ایک خامی یہ پائی جاتی ہے کہ کوئی دنیا دار جو دوسرے کے لئے کام کرتا ہے یا کوئی دوسرا اس پر اعتما درکھتا ہے اور اس کو اپنا سہارا بناتا ہے وہ تمام صفات حسنہ سے متصف نہیں ہوتا بعض باتیں اس کی مقدرت میں ہوتی ہیں اور بعض نہیں ہوتیں اس کے اندر بعض کمزوریاں ایسی ہوتی ہیں کہ جو شخص اس کا سہارا لیتا ہے وہ اس کی تمام ضرورتوں کو پورانہیں کرسکتا مثلاً بعض دفعہ انسان اپنے کسی اعتماد والے شخص سے دو تین یا چار مرتبہ اپنا کام کرواتا ہے تو وہ اس سے تنگ پڑ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم بار بار آ کر مجھے تنگ کرتے ہو اب تم کسی اور سے اپنا کام کر والو اور بعض دفعہ کوئی